SHAWORDS
M

Muniruzzama Muneer

Muniruzzama Muneer

Muniruzzama Muneer

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تعلقات جہاں سے نہ حادثات سے ہے مرے خلوص کا رشتہ تمہاری ذات سے ہے تڑپ رہے ہیں تو احباب ملنے آئے ہیں ہمارے دل کی یہ حالت تو آدھی رات سے ہے میں دشمنوں کو بھی اپنے عزیز رکھتا ہوں معاشرے میں تصادم بھی ان کی ذات سے ہے میں آئنہ ہوں مجھے دیکھ کتنا سادہ ہوں مری نگاہ کا رشتہ جمالیات سے ہے مشینی دور میں ہم لوگ سانس لیتے ہیں یہ اونچ نیچ بھی شہروں کے واقعات سے ہے قدم قدم پہ نئی زحمتوں نے یاد کیا منیرؔ آپ کا جینا بھی حادثات سے ہے

taalluqaat jahaan se na haadsaat se hai

غزل · Ghazal

وفا کی راہ میں ہر مرحلہ آساں نہیں ہوتا کسی کو بھول جانا درد کا درماں نہیں ہوتا پذیرائی کہاں ہوتی ہے اب شائستہ جذبوں کی ہر ایسا حادثہ منت کش احساں نہیں ہوتا ٹھکانہ ایک ہی رہتا ہے کب آزاد بندوں کا کبھی بھی سرفروشوں کا مکاں زنداں نہیں ہوتا چھپا ہے اس طرح وہ اپنے ہی جلوؤں کے پردے میں رخ پر نور عریاں ہو کے بھی عریاں نہیں ہوتا وہ اپنا گھر بسا لے گا ذرا مہلت اسے دینا کوئی بھی بے سہارا مستقل مہماں نہیں ہوتا یہ مانا حادثہ ہے زندگی سے پیار کرنا بھی تمہاری طرح سے کیوں دل مرا شاداں نہیں ہوتا سلیقہ آپ نے سکھلایا اس کو جینے مرنے کا منیرؔ اپنی طبیعت پر کبھی نازاں نہیں ہوتا

vafaa ki raah mein har marhala aasaan nahin hotaa

غزل · Ghazal

زندگی خواب پریشاں تھی سحر سے پہلے ایک الجھا ہوا نغمہ تھی اثر سے پہلے میری آنکھوں کی گزر گاہ سے آؤ دل میں کوئی گزرا نہیں اس راہ گزر سے پہلے ایک موہوم سے احساس جدائی کے سوا پاس کچھ بھی تو نہ تھا دیدۂ تر سے پہلے مجھ کو پہچان لے بدلی ہوئی حالت پہ نہ جا میں نے دیکھا ہے تجھے اپنی نظر سے پہلے رات پر نور ہے ماحول معطر ہے منیرؔ کوئی گزرا ہے سر شام ادھر سے پہلے

zindagi khvaab-e-pareshaan thi sahar se pahle

غزل · Ghazal

سر اٹھائے ہوئے زنداں سے گزر جاتے ہیں سر پھرے لوگ بیاباں سے گزر جاتے ہیں جاننے کے لئے چڑھتے ہوئے دریا کا مزاج ہم تو بہتے ہوئے طوفاں سے گزر جاتے ہیں یاد آ جاتا ہے ہم کو غم دوراں کا سلوک لوگ جب بھی غم جاناں سے گزر جاتے ہیں ہم نے دیکھا ہے مسیحا کو بھی پابند جنوں اہل دل جب کبھی درماں سے گزر جاتے ہیں وہ تو آنسو تھے جو آنکھوں ہی میں محفوظ رہے یہ ہیں کچھ پھول جو مژگاں سے گزر جاتے ہیں فصل گل لائی ہے دامن میں چھپا کر کانٹے اس لئے پھول گلستاں سے گزر جاتے ہیں اک فسانہ ہے ادھورا سا نئے دور کے لوگ روشنی لے کے شبستاں سے گزر جاتے ہیں سر اٹھائے ہوئے پھرتے تھے یہاں کل جو منیرؔ آج وہ گردش دوراں سے گزر جاتے ہیں

sar uThaae hue zindaan se guzar jaate hain

غزل · Ghazal

حیات موت ہے گویا اس آدمی کے لئے جو ساری عمر ترستا رہا خوشی کے لئے وہ رند رند نہیں پی کے جو بہک جائے کہ ظرف کی بھی ضرورت ہے مے کشی کے لئے غم فراق میں جیسی ہماری حالت ہے کوئی بھی اتنا پریشاں نہ ہو کسی کے لئے کیا ہے دوست نے آنے کا وعدہ آج کی شب چراغ دل کا جلانا ہے روشنی کے لئے منیرؔ غم کا مداوا کرو نہ بھول کے تم وجود غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے

hayaat maut hai goyaa us aadmi ke liye

Similar Poets