Munne Khan Azim
Munne Khan Azim
Munne Khan Azim
Ghazalغزل
maahaul hai ajiib mire aas-paas kaa
ماحول ہے عجیب مرے آس پاس کا ہر شخص ہے شکار جو خوف و ہراس کا اپنے وجود کی بھی حقیقت نہ پا سکا مرکز ہوں دائرے کا میں یا نقطہ راس کا کیا کیا یہ مرحلے ہیں ابھی میرے سامنے ہر دم رہا ہے ساتھ مجھے غم کا یاس کا وہ سرخ رو لگے ہے یوں اجلے لباس میں اک جل رہا ہو جیسے کہ جنگل کپاس کا وہ کون ہے جسے نہ ہو خوشبو کی آرزو ہر شخص پاس رکھتا ہے آئینہ آس کا ہر چند گو کہ میں تو نہیں اس سے مطمئن لیکن اثر ہوا ہے مرے التماس کا اقدار علم و فہم کا یہ دور ہی نہیں عازمؔ یہ دور آج کا ہے خوش لباس کا
jin ko ham mehrbaan samajhte hain
جن کو ہم مہرباں سمجھتے ہیں دل کی حالت کہاں سمجھتے ہیں ہم تو گلشن پرست ہیں لیکن تجھ کو ہم باغباں سمجھتے ہیں اتنا حساس دل ہے سینے میں خامشی کی زباں سمجھتے ہیں ہم نے ان کا بھی وقت دیکھا ہے خود کو جو آسماں سمجھتے ہیں جن کو اپنا پتا نہیں معلوم سب انہیں غیب داں سمجھتے ہیں غم بہاتا ہے اشک آنکھوں سے لوگ بس داستاں سمجھتے ہیں جو کہ ہیں مار آستیں عازمؔ ہم انہیں راز داں سمجھتے ہیں
is gardish-e-mudaam se ghabraa gayaa huun main
اس گردش مدام سے گھبرا گیا ہوں میں رفتار ایک سی ہے تو اکتا گیا ہوں میں ہر پل ہجوم یاس کا پیکر بنا ہوا اکثر اس ایک حال میں دیکھا گیا ہوں میں پژمردہ زندگی سے تو پیچھا چھٹے کہ بس ہر دن خوشی کی آس میں مرتا گیا ہوں میں اپنوں کو اپنا کہتے ہوئے آئے شرم سی کس کس نظر سے دوستو دیکھا گیا ہوں میں میں نے ندیم رکھ تو لیا حسن کا بھرم پر عشق کی چتا میں جلایا گیا ہوں میں لے کر اٹھا ہوں پھر سے میں اک اور عزم نو عازمؔ کے نام سے بھی تو جانا گیا ہوں میں





