Muqeem Ehsan Kaleem
نہیں کچھ اور تو ممکن تھی خودکشی پھر بھی ہے کوئی بات کہ جیتا ہے آدمی پھر بھی یہ تیرگی تو بس اک گردش زمیں تک ہے مگر یہ رات جو ہم سے نہ کٹ سکی پھر بھی چمن لٹا ہے خود اہل چمن کی سازش سے کلی کلی ہے مگر محو خواب سی پھر بھی کسی کو پا کے بھی اکثر گماں یہ ہوتا ہے کہ جیسے رہ گئی باقی کوئی کمی پھر بھی ہمیں پہ یورش ظلمت ہمیں ہیں کشتۂ شب ہمیں ہیں پیش رو صبح و روشنی پھر بھی
nahin kuchh aur to mumkin thi khud-kushi phir bhi