SHAWORDS
Murtaza Ashar

Murtaza Ashar

Murtaza Ashar

Murtaza Ashar

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

شاخ پر بیٹھا اک پرندہ تھا میں جسے اپنا خواب سمجھا تھا دو گھڑی کو وہ پاس ٹھہرا تھا کون جانے وہ شخص کیسا تھا دیکھ آنگن میں تیرے چمکا ہے میری قسمت کا جو ستارہ تھا آج اس نے بھی خودکشی کر لی جس کو مرنے سے خوف آتا تھا گھل گئی ساری تلخی لہجے کی چائے کا ذائقہ تو میٹھا تھا

shaakh par baiThaa ik parinda thaa

غزل · Ghazal

یوں تری یاد میں سلگتے ہیں جیسے صحرا میں پیڑ جلتے ہیں لے اڑے گی ہوائے دہر ہمیں ہم خزاں رت کے زرد پتے ہیں خشک دریا انہیں نہیں دکھتے جو پرندے اڑان رکھتے ہیں جوڑتے ہیں تمام دن خود کو رات بھر ریزہ ریزہ ہوتے ہیں رت جگے کاٹتے ہیں راتوں کو ہم کہ دن بھر جو نیند بوتے ہیں ہو گئی ہار جیت بے معنی آؤ یہ کھیل ختم کرتے ہیں اس لئے بے مراد ہیں شاید دل میں جو آئے کر گزرتے ہیں خواب اس کے قدم قدم اشعرؔ آنکھ کے راستے میں آتے ہیں

yuun tiri yaad mein sulagte hain

غزل · Ghazal

انا پرست تو ہم ہیں غرور کس کا ہے مبارزت کے عمل میں قصور کس کا ہے تمہاری آنکھ میں تو آفتاب کھلتے ہیں مگر ہمارے چراغوں میں نور کس کا ہے یہ کون مجھ میں مجھے ڈھونڈھتا ہے ہر لمحہ مرے وجود پہ قائم شعور کس کا ہے مجھے بتاؤ کہ چارہ گری کروں کس کی مری تھکن سے بدن چور چور کس کا ہے کسی کو بھی نہیں معلوم راز ہستی کا کتاب زیست پہ اشعرؔ عبور کس کا ہے

anaa-parast to ham hain ghurur kis kaa hai

Similar Poets