SHAWORDS
M

Musanna Rizvi

Musanna Rizvi

Musanna Rizvi

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sitam ki baat jahaan harf-e-mo'tabar Thahre

ستم کی بات جہاں حرف معتبر ٹھہرے نوائے درد وہاں کیوں نہ بے اثر ٹھہرے ہزار حیف کہ جو آگہی کے دشمن تھے ہمارے شہر میں وہ لوگ دیدہ ور ٹھہرے تمام عمر ستاتا رہا بس ایک خیال وہ خواب کاش ان آنکھوں میں عمر بھر ٹھہرے کبھی تو دل کو میسر سکون ہو یا رب کہیں تو جا کے یہ بھٹکی ہوئی نظر ٹھہرے گراں گزرتی تو ہے اس کی تلخیٔ گفتار عجب نہیں کہ وہی شخص معتبر ٹھہرے

غزل · Ghazal

nagri nagri ghuum ke dekhaa ham ko lage anjaane log

نگری نگری گھوم کے دیکھا ہم کو لگے انجانے لوگ اپنی اپنی سب کو پڑی ہے درد سے ہیں بیگانے لوگ کیسے کیسے گل ہیں کھلائے اہل خرد کی حکمت نے کون سنے گا بات ہماری ہم ٹھہرے دیوانے لوگ آگ لگانا کھیل تھا جن کا درد کے لالہ زاروں میں شعلۂ سوزاں سے لرزاں ہیں آج وہی فرزانے لوگ کس کی تمنا کون سے ارماں کس کا تصور کون سے خواب پاس تھا جو بھی کھو کر لوٹے نکلے تھے کچھ پانے لوگ مارے مارے پھرتے رہے ہم حال نہ پوچھا ایک نے بھی خواب ہیں سب کے بکھرے بکھرے بھول چکے افسانے لوگ

Similar Poets