Mushtaq Ajiz
لہو جلا کے اجالے لٹا رہا ہے چراغ کہ زندگی کا سلیقہ سکھا رہا ہے چراغ وفور شوق میں لیلئ شب کے چہرے سے نقاب زلف پریشاں اٹھا رہا ہے چراغ ہمارے ساتھ پرانے شریک غم کی طرح عذاب ہجر کے صدمے اٹھا رہا ہے چراغ یہ روشنی کا پیمبر ہے اس کی بات سنو صداقتوں کے صحیفے سنا رہا ہے چراغ شب سیاہ کا آسیب ٹالنے کے لیے تمام عمر شریک دعا رہا ہے چراغ ہوائے دہر چلی ہے بڑی رعونت سے دیار عشق میں کوئی جلا رہا ہے چراغ وہ ہاتھ بھی ید بیضا سے کم نہیں عاجزؔ جو خاک ارض وطن سے بنا رہا ہے چراغ
lahu jalaa ke ujaale luTaa rahaa hai charaagh