SHAWORDS
Mushtaq Anjum

Mushtaq Anjum

Mushtaq Anjum

Mushtaq Anjum

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

مرا دل عجب شادمانی میں گم ہے کہ وہ آج میری کہانی میں گم ہے سمجھتا ہے دل تیرے طرز سخن کو مگر تیری جادو بیانی میں گم ہے میں ہوں فطرتاً موج سے لڑنے والا وہ ملاح کیا جو روانی میں گم ہے اسے کیا پتا کیا ہے صحرا نوردی ہواؤں کی جو بے زبانی میں گم ہے بہت ٹیس اٹھتی ہے دیکھے سے اس کو وہ کیا ہے جو تیری نشانی میں گم ہے اسی کا تو حق موتیوں پر ہے انجمؔ سمندر کی جو بیکرانی میں گم ہے

miraa dil ajab shaadmaani mein gum hai

2 views

غزل · Ghazal

بال و پر رکھتے نہیں عزم سفر رکھتے ہیں شوق پرواز بہ انداز دگر رکھتے ہیں ہاتھ اٹھانے کی کوئی شرط دعا میں کب ہے تیرے عشاق نگاہوں میں اثر رکھتے ہیں بالارادہ نہ سہی یوں ہی کبھی آ جاؤ پیار کے رستے میں ہم چھوٹا سا گھر رکھتے ہیں یہ الگ بات کہ آتے ہیں نظر ذرہ صفت ورنہ قدموں میں تو ہم شمس و قمر رکھتے ہیں دھوپ ہے ریت ہے اور اپنا سفر ہے جاری سایہ رکھتے ہیں نہ ہم لوگ شجر رکھتے ہیں اس طرف والے نظر آتے ہیں لرزیدہ مگر اس طرف والے کف دست پہ سر رکھتے ہیں پر سکوں ہے جو فضا اس پہ نہ جانا انجمؔ آشیاں کتنے ابھی برق و شرر رکھتے ہیں

baal-o-par rakhte nahin azm-e-safar rakhte hain

1 views

غزل · Ghazal

شفاف سطح آب کا منظر کہاں گیا آئینہ چور چور ہے پتھر کہاں گیا روزن کھلا تھا دل کا ہوائیں بھی آئی تھیں لیکن قریب تر تھا جو دلبر کہاں گیا اک وہ کہ جس کو فرصت لطف و کرم نہیں اک میں کہ سوچتا ہوں ستم گر کہاں گیا سینے سے اس کا ہاتھ ہٹانا محال تھا جاتے ہوئے وہ ہاتھ ہلا کر کہاں گیا پہلے یہی تڑپ تھی کہ دستار کیوں گری اور اب یہ سوچتا ہوں مرا سر کہاں گیا گھر میں ہوں اور سوچ رہا ہوں نہ جانے کیوں دیوار و در وہی ہیں مرا گھر کہاں گیا ساحل پہ آ کے سوچنا انجمؔ فضول ہے کشتی کہاں گئی وہ سمندر کہاں گیا

shaffaaf sath-e-aab kaa manzar kahaan gayaa

1 views

غزل · Ghazal

یاد تو آئے کئی چہرے ہر اک گام کے بعد کوئی بھی نام کہاں آیا ترے نام کے بعد دشت و دریا میں کبھی گلشن صحرا میں کبھی میں رہا محو سفر اک ترے پیغام کے بعد گامزن راہ جنوں پر ہیں تو پھر سوچنا کیا کسی انجام سے پہلے کسی انجام کے بعد دل کا ہر کام فقط اس کی نظر کرتی ہے نام آتا ہے مگر میرا ہر الزام کے بعد میری بے تابئ دل میرا مقدر ٹھہری شب آلام سے پہلے شب آلام کے بعد کام لیتا ہے مجھی سے وہ مصیبت میں سدا بھول جاتا ہے مگر مجھ کو مرے کام کے بعد بارہا اس نے مرا نام مٹایا انجمؔ رو پڑا پھر وہ ہر اک بار اسی کام کے بعد

yaad to aae kai chehre har ik gaam ke baad

غزل · Ghazal

دل میں کچھ ہے بیان میں کچھ ہے آپ کی داستان میں کچھ ہے میرے وہم و گمان سے بڑھ کر ان کے تیر و کمان میں کچھ ہے پاؤں رکھیے سنبھل کے بستی میں گھر میں کچھ سائبان میں کچھ ہے پیرو مذہب محبت ہوں دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے جب دلوں میں رہے نہ گنجائش ماں نہ سمجھے مکان میں کچھ ہے رخ ہوا کا نہ دیکھیے انجمؔ دیکھیے بادبان میں کچھ ہے

dil mein kuchh hai bayaan mein kuchh hai

غزل · Ghazal

تیری الفت کو جگا رکھا ہے دل میں طوفان اٹھا رکھا ہے رنج و راحت ہیں گلے شکوے ہیں کیسا گھر بار سجا رکھا ہے اس کا احسان کہ اس کے دل نے فاصلہ ہم سے سدا رکھا ہے وقت کیوں ریت سا پھسلا جائے ہم نے مٹھی میں دبا رکھا ہے سامنے رہتے ہوئے بھی اس نے خود کو پردے میں چھپا رکھا ہے شاد ہر پل ہیں کہ ہم نے دل کو خوگر درد بنا رکھا ہے خار ہے جس کی زباں اس نے بھی گھر کو پھولوں سے سجا رکھا ہے کوئی جنبش پس پردہ ہو کبھی سر ترے در سے لگا رکھا ہے وہ بھی کیا دل ہے کہ جس میں انجمؔ نام رکھا نہ پتا رکھا ہے

teri ulfat ko jagaa rakkhaa hai

Similar Poets