
Mushtaq Singh
Mushtaq Singh
Mushtaq Singh
Ghazalغزل
دل شوریدہ بتا تیری یہ عادت کیا ہے ہم سے ہی پوچھ رہا ہے کہ محبت کیا ہے نہ محبت نہ مروت نہ ملاقات رہی گر یہی دوستی ٹھہری تو عداوت کیا ہے ہم نہ کہتے تھے کہ یادوں کو سنبھالے رکھنا اب جو تنہائی کا عالم ہے تو حیرت کیا ہے غیر کو ساتھ لیے آئے ہو ہم سے ملنے فتنہ انگیزی یہ کیسی یہ قیامت کیا ہے زلف زنجیر ستم تیغ جفا ہیں ابرو دل وحشت زدہ اب بچنے کی صورت کیا ہے کیسی بے مہری سے رخصت ہوا وہ توڑ کے دل پوچھ تو لیتا تری آخری حسرت کیا ہے کس لیے زندہ ہوں میں اس سے بچھڑ کے مشتاقؔ مجھ سے پوچھو کہ مرے دل میں ندامت کیا ہے
dil-e-shorida bataa teri ye aadat kyaa hai
کبھی نصیب کی بھولے سے بھی سحر نہ ہوئی بغیر حسرت و غم زندگی بسر نہ ہوئی سحر قریب ہے شمع حیات بجھتی ہے دیار غیر میں یاروں کو ہی خبر نہ ہوئی تمہیں قریب سے دیکھتا تو خود کو پہچانا شعاع حسرت دل ہم پہ بے اثر نہ ہوئی کہاں کہاں نہ ہوئی داستان دل رسوا وہ کو بہ کو نہ ہوئی یا کہ در بدر نہ ہوئی مریض عشق کا تو اس قدر فسانہ ہے دوا ہو یا کہ دعا کوئی کارگر نہ ہوئی اٹھائیں تہمتیں ہم نے جہان بھر کی مگر ذرا سی بھول کی بھی تم سے درگزر نہ ہوئی اگرچہ مے کدہ میں تشنگی غضب کی تھی ہمارے واسطے ہی مہرباں نظر نہ ہوئی
kabhi nasib ki bhule se bhi sahar na hui
ساری رات کہانی سن کے ہم تو لب نہ کھولیں گے ویسے چھپ کے ہنس بھی لیں گے ویسے تنہا رو لیں گے اجڑے دل کی بستی والے اتنے غافل ہوتے ہیں کھو بھی گئے تو اس میلے میں کسی کے سنگ بھی ہو لیں گے بادل گرجے بجلی کڑکے یا ساون بھادوں برسیں ہم سڑکوں پہ رہنے والے چپی سادھ کے سو لیں گے یارو تم یہ فکر نہ کرنا کس کے سر الزام لگے ہم تو اپنے خون سے اپنے دونوں ہاتھ بھگو لیں گے جب بھی درد سے دل تڑپے گا ٹکڑے ٹکڑے ہوگی روح کسی اندھیرے کمرے میں ہم دل میں درد سمو لیں گے ہم نے ساری عمر اکیلے موت کا رستہ دیکھا ہے جب بھی آئی کسی بھی چوکھٹ پر سر رکھ کے سو لیں گے چپکے چپکے کفن لپیٹے نکلیں گے جب ہم گھر سے لاکھ بلاؤ گے رو رو کر ہرگز آنکھ نہ کھولیں گے
saari raat kahaani sun ke ham to lab na kholeinge
کیا کروں کچھ بھی سمجھ آتا نہیں وہ خیالوں سے مرے جاتا نہیں کیا خبر چہرہ کہاں وہ کھو گیا خواب میں بھی جو نظر آتا نہیں رات جگنو چاند تاروں کا ہجوم دل پریشاں چین کیوں پاتا نہیں کوئی سورج اپنے دامن میں لیے خواب فردا کا نشاں آتا نہیں برف ذہنوں میں جمی ہے اس قدر حادثوں کا ڈر بھی گرماتا نہیں اس قدر دھندلا گیا ہے آئنہ کوئی بھی چہرہ نظر آتا نہیں کس لیے ان کے تصور کا طلسم اب دل مشتاقؔ بہلاتا نہیں
kyaa karun kuchh bhi samajh aataa nahin





