
Mushtaque Ahzan
Mushtaque Ahzan
Mushtaque Ahzan
Ghazalغزل
نہ کھل کر دشمنی کا وہ کبھی اظہار کرتا ہے بڑا کم ظرف ہے چھپ کر ہمیشہ وار کرتا ہے کہاں رغبت رہی ہے آج بچوں کو کھلونوں سے یہ وہ طبقہ ہے جو اب چاقوؤں سے پیار کرتا ہے کبھی کوئی بھی غم اس شخص پر غالب نہیں آتا وہ کیسا شخص ہے محرومیوں سے پیار کرتا ہے کبھی تو اس کی باتوں سے گماں ہوتا ہے پھولوں کا کبھی نشتر چبھو کر وہ جگر کے پار کرتا ہے جو دعویٰ کرتا رہتا ہے مسیحائی کا ہر لمحہ تعصب کی کھڑی احزنؔ وہی دیوار کرتا ہے
na khul kar dushmani kaa vo kabhi izhaar kartaa hai
کسی کی رہنمائی کو اگر مانے نہیں ہوتے تو شہر سنگ میں اپنے بھی کاشانے نہیں ہوتے تحمل ڈگمگاتا ہے لرزتی ہے انا میری کبھی بچوں کی خاطر گھر پہ جب دانے نہیں ہوتے نہ ہوتا خوف دہشت کا جو رشتہ دشت صحرا سے کبھی مشہور اتنے دشت و ویرانے نہیں ہوتے الگ اپنوں سے مجھ کو کر دیا میری غریبی نے اگر زردار میں ہوتا وہ بیگانے نہیں ہوتے مصائب ہر طرح مشتاق احزنؔ جھیل جاتا ہے کبھی اس کے لبوں پہ غم کے افسانے نہیں ہوتے
kisi ki rahnumaai ko agar maane nahin hote





