SHAWORDS
M

Muslim Maleganwi

Muslim Maleganwi

Muslim Maleganwi

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

غم الفت کے مناظر بھی ہیں پیارے کتنے اشک ٹپکے تو بنے چاند ستارے کتنے عمر بھر ٹوٹے ہیں بندھ بندھ کے سہارے کتنے کام آتے رہے ہمدرد ہمارے کتنے یہی جینا ہے تو پھر موت کسے کہتے ہیں جی رہے ہیں غم و اندوہ کے مارے کتنے یوں تو کہنے کو بہار آتی رہی جاتی رہی کوئی پوچھے کہ چمن اس نے سنوارے کتنے انقلاب آنے کو دنیا میں ہے آ جانے دو پھر ابھرنے کو ہیں ڈوبے ہوئے تارے کتنے میں ابھی کہہ دوں تو کونین میں ہلچل پڑ جائے ہیں مری چشم تصور میں نظارے کتنے موت اور زیست کے کھایا کئے کیا کیا نہ فریب زندگی کے تھے یہ دلچسپ نظارے کتنے ظرف درکار ہے اے دوست محبت کے لئے کر لئے دل ہی نے خود جذب شرارے کتنے کاش ہوتا کوئی محفل میں سمجھنے والا تھے لطیف ان کی نگاہوں کے اشارے کتنے ہو مبارک تمہیں سیر مہ و انجم لیکن اس میں ہیں آہ غریباں کے شرارے کتنے معترف ہم بھی ہیں مسلمؔ کی غزل گوئی کے صاف بندش ہے مضامین ہیں پیارے کتنے

gham-e-ulfat ke manaazir bhi hain pyaare kitne

غزل · Ghazal

آخر کوئی شریک غم بیکسی تو ہے اک شمع رات بھر سر بالیں جلی تو ہے اس زندگیٔ عشق سے اک زندگی تو ہے میٹھی سی اک خلش مرے دل میں دبی تو ہے یاد ان کی شمع راہ محبت ہوئی تو ہے مہر و وفا کی بات کچھ آگے بڑھی تو ہے ہر شوق ناتمام ہے ہر آرزو فریب ہم میں ضرور دوستو کوئی کمی تو ہے آخر گزر ہی جائے گی غم کی طویل رات باقی ابھی چراغ میں کچھ روشنی تو ہے پھولوں سے سیکھ اے دل بے صبر صبر و ضبط دل میں ہزار زخم ہوں لب پر ہنسی تو ہے مجھ پر زمیں ہے تنگ مگر کوئی غم نہیں اتنے پہ مطمئن ہوں کہ تیری گلی تو ہے میرے دل فسردہ کو دیکھ اے بہار ناز ماری ہوئی خزاں کی یہی اک کلی تو ہے تو اور میری چشم تصور میں جلوہ گر یہ بھی خیال فکر کی بازی گری تو ہے کیا خوف جشن ہے یہ شہیداں ناز کا گلشن میں ہر طرف صف ماتم بچھی تو ہے مسلمؔ دعائیں داغ محبت کو دیجئے اس سے دل و دماغ میں اک روشنی تو ہے

aakhir koi sharik-e-gham-e-bekasi to hai

غزل · Ghazal

ہر کسی کے ہے سمجھنے کی نہ سمجھانے کی بات عشق کیا ہے جیتے جی بے موت مر جانے کی بات داستان قیس کو سمجھے تھے دیوانے کی بات اک حقیقت بن گئی آخر کو افسانے کی بات رخ نے کی زلفوں کی اور زلفوں نے کی شانے کی بات اور الجھتی ہی چلی جاتی ہے سلجھانے کی بات یہ تو ہوتا ہے بڑے ہی حوصلے والوں کا کام سہل کب ہے آنکھوں ہی آنکھوں میں پی جانے کی بات کر لیں خود لیلیٰ وشوں نے بستیاں اپنی تباہ یوں ہی کہہ دی تھی کہیں مجنوں نے ویرانے کی بات ان بتوں کو دیکھ کر شان خدا یاد آ گئی یوں حرم تک جا کے پہنچی ہے صنم خانے کی بات جانے کیا ظالم نے چپکے سے اشارہ کر دیا رات بھر روتی ہے سن کر شمع پروانے کی بات کوئی مطلب ہی کا فقرہ ہاتھ آ جاتا تمہیں عقل والو اک ذرا سن لیتے دیوانے کی بات ہم تو کہتے ہیں کہ مسلمؔ وزن رکھتی ہے ضرور قصۂ دیر و حرم پر ایک میخانے کی بات

har kisi ke hai samajhne ki na samjhaane ki baat

غزل · Ghazal

کوئی ہو سکتا بھی تھا حامل نوائے راز کا آخر اک اک تار ٹوٹا زندگی کے ساز کا منتظر ہے اک جہاں حسن کرشمہ ساز کا اب اٹھا بھی دیجئے پردہ حریم ناز کا ذکر مجھ سے کیوں ہے صور حشر کی آواز کا یہ تو اک بگڑا ہوا نغمہ ہے میرے ساز کا اف رے یہ حسن تماشا دوست کا شوق نمود کر دیا کن کہہ کے پردہ فاش حرف راز کا دل ہی دل میں رو کے مثل شمع ہم چپ رہ گئے کیا اثر محفل پہ ہوتا ساز بے آواز کا ہو اگر سچی تڑپ مٹی میں بھی پڑتی ہے جاں دل ہے کیوں طالب مسیح و خضر کے اعجاز کا صبح ہوتے ہوتے آخر وہ بھی اٹھوائی گئی راز داں جز شمع تھا کون اس حریم ناز کا رکھ لی ان نوخیز کلیوں ہی نے کچھ جلوؤں کی شرم ورنہ کیا حشر اس چمن میں ہو تمہارے راز کا وعدۂ جنت کا مسلمؔ کس لئے کھائیں فریب ہے نگاہوں میں تصور اک بہار ناز کا

koi ho saktaa bhi thaa haamil navaa-e-raaz kaa

غزل · Ghazal

اے کہ تجھ سے طاقت پرواز بال و پر میں ہے وہ بلندی دے جو عزم حوصلہ پرور میں ہے قطرۂ اشک ندامت میری چشم تر میں ہے پیش کرتا ہوں وہی یا رب جو میرے گھر میں ہے مے کا ہر قطرہ ہوا ہے حامل کیف تمام گویا مے خانہ کا مے خانہ مرے ساغر میں ہے درد خود ہی وضع کر لیتا ہے سامان خلش موجزن میرا ہی خون دل رگ نشتر میں ہے ہو کے دامن چاک اصلیت کو عریاں کر دیا کیوں یہ سودائے نمائش ہر کلی کے سر میں ہے اے جنوں دیوار و در کی توڑ دے حد بندیاں دیکھنا پھر وسعت صحرا ہمارے گھر میں ہے دل میں ہے کیفیت ساغر کی مجھ کو جستجو اور دل ڈوبا ہوا کیفیت ساغر میں ہے نفس سرکش تو نہ تھا آمادۂ سجدہ مگر اک کشش اک جاذبیت تیرے سنگ در میں ہے تنگیٔ دشت جنوں کا کون فریادی ہوا ایک محشر اور برپا عرصۂ محشر میں ہے دیکھیے ذوق صفا کیشی کا ہو انجام کیا قسمت آئینہ مسلمؔ دست اسکندر میں ہے

ai ki tujh se taaqat-e-parvaaz baal-o-par mein hai

غزل · Ghazal

جب پردۂ مجاز حقیقت نما بنا ہر ذرہ اپنی اپنی جگہ آئنہ بنا رفعت میں خاک دیر و حرم سے سوا بنا وہ آستاں جو قبلۂ اہل وفا بنا نغمہ بہار ابر شفق پھول چاندنی سب جمع ہو گئے تو سراپا ترا بنا سنتے ہی چونک چونک اٹھے اہل کارواں نالہ یہ کس کا تھا جو صدائے درا بنا الجھا ہوا ہے مسئلۂ زندگی میں عشق اک درد سر یہ بن کے رہا اور کیا بنا دل چل پڑا تھا راہ محبت میں بے دریغ منزل تک اس غریب کا کیا جانے کیا بنا کیا بات ہے کہ عشق کو رکھتے ہیں لوگ نام یہ عشق ہی تو حاصل ہر مدعا بنا اے جور دوست تیری عنایت کا شکریہ جو درد تو نے بخش دیا وہ دوا بنا تعمیر کر رہے تھے خیالوں کا ہم محل اپنا ہی گھر بگاڑ لیا اور کیا بنا اللہ رے معجزہ دل عاشق کے خون کا ہاتھوں تک ان کے جاتے ہی رنگ حنا بنا وہ وسوسہ جو دل میں اٹھا اول سفر کانٹا قدم قدم پہ وہی راہ کا بنا واماندگیٔ عاشق مایوس الامان بیٹھا ہوا ہے راہ میں اک نقش پا بنا مسلمؔ جھکائے جا کے کہاں گردن نیاز ہر بت بزعم خویش ہے گویا خدا بنا

jab parda-e-majaaz haqiqat-numaa banaa

Similar Poets