
Muslim Shahzad
Muslim Shahzad
Muslim Shahzad
Ghazalغزل
muqaabil der tak raushan sitaara chaahiye kuchh aur
مقابل دیر تک روشن ستارہ چاہئے کچھ اور اندھیرے کا احاطہ پارہ پارہ چاہئے کچھ اور کہیں بھی دیر تک ٹکنا گوارہ ہے نہیں اس کو نگاہ یار کو ہر پل نظارہ چاہئے کچھ اور سفر میں جھیل کے جب ناؤ اپنی نارسا ٹھہری کھلا مجھ پر کہ اس بابت شکارا چاہئے کچھ اور عجب کیا کہ بدن کی جل بجھی سی راکھ کے اندر سلگ اٹھنے پہ آمادہ شرارہ چاہئے کچھ اور ابھرتی ٹوٹتی موجوں سے اندازہ نہیں ہوتا سمندر میں روانی کا اشارہ چاہئے کچھ اور جرائد اور بھی آگے مرے شہزادؔ ہیں لیکن مراتب کے حوالے سے شمارہ چاہئے کچھ اور
marg-aasaar 'anaasir dar-o-divaar mein hai
مرگ آثار عناصر در و دیوار میں ہے لا مکانی کا تصور دل آزار میں ہے ہاں بلا سے نہ کسی تاج نہ دستار میں ہے سر زمانے کا مگر نشۂ پندار میں ہے ہے مرے ذہن میں تنقید کا خنجر پیوست ورنہ تخلیق تو تازہ مرے افکار میں ہے جاگ اٹھتی ہے سسکتی ہے بکھر جاتی ہے ایک تحریک کہ پازیب کی جھنکار میں ہے اس تگ و دو میں کہیں کھو نہیں جائے شہزادؔ ایک پہچان کہ روشن مرے کردار میں ہے
havaa kaa jaal bhalaa TuuT kar bikhartaa kyaa
ہوا کا جال بھلا ٹوٹ کر بکھرتا کیا مری صدا کا پرندہ اڑان بھرتا کیا نہ دست و پا ہی سلامت رہے نہ سر باقی اب اس سے بڑھ کے کوئی سانحہ گزرتا کیا کہ اس نے تار تخاطب کو ناگہاں چھیڑا الجھ کے رہ گئی آواز سر ابھرتا کیا بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا سخت جاں منظر بچھڑتے وقت میں آنکھوں میں قید کرتا کیا لرز رہی تھی اندھیرے کی سیڑھیاں ساری دیار شب میں اجالا کوئی اترتا کیا کنار آب کھڑا سوچتا رہا شہزادؔ جو نقش ڈوب چکا تھا وہ پھر ابھرتا کیا
tabi'at mein kisi had tak mataanat chaahiye kuchh aur
طبیعت میں کسی حد تک متانت چاہئے کچھ اور حریفوں سے بھی نہ حرف و حکایت چاہئے کچھ اور اب ایسی بھی کیا مجبوری کہ خود میں گم رہا جائے بدن میں اپنے ہونے کی علامت چاہئے کچھ اور خزاں دیدہ شجر ہوں پھولنا پھلنا مگر چاہوں مرے حق میں بہاروں کی حمایت چاہئے کچھ اور کوئی مکتوب یاراں کہ کوئی تصویر جاناں ہو سدا محفوظ یاروں کی امانت چاہئے کچھ اور ارادہ سرفرازی کا بہت اچھا سہی لیکن برائے سرفرازی قد و قامت چاہئے کچھ اور سر اطراف یخ بستہ ہوا ہے اس قدر شہزادؔ رواں اپنی رگ و پے میں حرارت چاہئے کچھ اور
dhanak laala shafaq jugnu sitaara dekhtaa hai vo
دھنک لالہ شفق جگنو ستارہ دیکھتا ہے وہ سدا خوش رنگ روشن استعارہ دیکھتا ہے وہ کبھی خود آپ اپنا حوصلہ پایاب ہونے کا کبھی حسرت سے دریا کا کنارہ دیکھتا ہے وہ عجب متضاد حاصل کاروبار شوق ہے اس کا افادہ سوچتا ہے تو خسارہ دیکھتا ہے وہ زمانہ محو حیرت ہے کہ بجھتی راکھ کے اندر ہوا دے دے کے آخر کیا شرارہ دیکھتا ہے وہ ابھی تو شام کے سائے بھی مہرائے نہ آنکھوں میں ابھی سے آخر شب کا ستارہ دیکھتا ہے وہ شجر جس سے کوئی امید برگ و بار بر آتی اسی پہ زرد موسم کا اجارہ دیکھتا ہے وہ جہاں اس نے بنا رکھا ہے کاغذ کا مکاں شہزادؔ اسی جانب ہواؤں کا اشارہ دیکھتا ہے وہ
dhund si kahaani likh
دھند سی کہانی لکھ لفظ لفظ فانی لکھ ریت ریت ہونٹوں پر بوند بوند پانی لکھ آگ سی عبارت کے پھول سے معانی لکھ خنجروں کی دھاروں پر مرگ ناگہانی لکھ رات اور ستارے کو راہ اور نشانی لکھ جسم لکھ سمندر کو موج کو جوانی لکھ آخری تھکن کے نام پہلی کامرانی لکھ





