SHAWORDS
Muslim Shameem

Muslim Shameem

Muslim Shameem

Muslim Shameem

poet
18Ghazal

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

بجھے بجھے سے ہیں شاعر کے ذہن و دل کے دیے بھٹک رہا ہے کہاں جائے روشنی کے لیے روش روش پہ درخشاں ہے برق خوف و ہراس جھلس رہے ہیں در و بام جذبہ و احساس نظر اداس ہے ویراں ہیں سارے نظارے جبین صبح سے پھوٹے لہو کے فوارے زمیں پہ لاشوں کے گلشن میں خوں کی نمی اب اہتمام بہار چمن میں کیا ہے کمی جمال صبح وطن آنسوؤں میں مدغم ہے عروس فصل بہاراں کی آنکھ پر نم ہے بہ فیض جبر و ستم غم نے فتح پائی ہے وفا کے نام پہ دل نے شکست کھائی ہے شعار دیدہ وری سے گلوں کے شاد نہیں چمن کے پھول چمن ہیں یہ ان کو یاد نہیں ستم کو اہل ہوس بھی ستم سمجھتے ہیں یہ اور بات ہے شعلوں کو پھول کہتے ہیں سمٹتی رات کے سائے سحر کی راہ میں ہیں ہم اور چند گھڑی ظلم کی پناہ میں ہیں

bujhe bujhe se hain shaair ke zehn-o-dil ke diye

1 views

غزل · Ghazal

غم حیات لب شعلہ بار تک پہنچا ہمارا ذہن حد اعتبار تک پہنچا فسوں یہ کس کی نظر کا بہار تک پہنچا سکوت لالہ و گل انتشار تک پہنچا بھٹک رہا تھا جنوں رہ گزار ہستی میں نہ جانے کب یہ خم زلف یار تک پہنچا سب اہل بزم مرے حسن شعر تک پہنچے مگر نہ کوئی دل سوگوار تک پہنچے یہ کس نے چھیڑ دیا ساز آرزوئے وصال یہ آج کون اس اجڑے دیار تک پہنچا

gham-e-hayaat lab-e-shoala-baar tak pahunchaa

1 views

غزل · Ghazal

وفا کا ذکر ہو بے مہریٔ بتاں کی طرح یہاں خلوص بھی ارزاں ہے نقد جاں کی طرح کبھی جو حال دل خوں چکاں کا ذکر چلے سنائیے انہیں روداد دیگراں کی طرح سروں کے چاند فروزاں ہیں راہ الفت میں چمک رہی ہے زمیں آج کہکشاں کی طرح کسی مسیح کے قدموں کی آہٹیں سن کر صلیب جھوم اٹھی شاخ آشیاں کی طرح کہاں سے لائیے رعنائی خیال شمیمؔ سبوئے دل بھی ہے خالی سبوئے جاں کی طرح

vafaa kaa zikr ho be-mehri-e-butaan ki tarah

1 views

غزل · Ghazal

شعلے برس رہے ہیں لب جوئبار سے ہے مختلف بہار یہ کتنی بہار سے زنداں کی تیرگی ہو کہ مقتل کی خامشی ہیں مطمئن کسی نہ کسی اعتبار سے کیسے کہیں کہ بارش خوں کی امید تھی سائے تو مختلف نہ تھے ابر بہار سے ان کی جبیں پہ شبنم احساس دلبری تشبیہ دیجئے گہر تابدار سے اس جان شعر و فن سے شمیمؔ آج گفتگو آغاز کیجئے غزل خوش گوار سے

shoale baras rahe hain lab-e-juebaar se

1 views

غزل · Ghazal

زخموں کی فراوانی قاتل کی شکایت بھی کس درجہ انوکھی ہے یہ رسم محبت بھی اس شہر خموشاں میں کیا ساز غزل چھیڑیں محفوظ یہاں کب ہے احساس کی دولت بھی ساقی کی نگاہوں کے معصوم اشاروں میں جینے کی ہیں تاکیدیں مرنے کی اجازت بھی ہم کفر محبت کے فانوس جلاتے ہیں سر آنکھوں پہ اپنے ہے قاتل کی یہ تہمت بھی پوچھیں تو شمیمؔ ان سے کیا ظلم کا حاصل ہے راس آ نہ سکی جن کو شداد کی جنت بھی

zakhmon ki faraavaani qaatil ki shikaayat bhi

غزل · Ghazal

گزشتہ شب ہمہ اوقات غرق جام رہے کبھی خدا سے کبھی اس سے ہم کلام رہے دعائے آخر شب میں اسی کو مانگا ہے جو قتل حرف تمنا پہ شاد کام رہے کبھی جو آئی بھی تکمیل آرزو کی گھڑی جو ناتمام تھے قصے وہ ناتمام رہے دئے سجے رہیں پلکوں پہ دل سلگتا رہے وہ آئے یا کہ نہ آئے یہ التزام رہے لہو لہو دل و جاں ہوں پر اپنے قاتل کا شمیمؔ کچھ بھی ہو ملحوظ احترام رہے

guzishta shab hama-auqaat gharq-e-jaam rahe

Similar Poets