SHAWORDS
Mustafa Dilkash

Mustafa Dilkash

Mustafa Dilkash

Mustafa Dilkash

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

دل کے ویرانے کو گلزار بنانے کے لئے آج کا دن ہے فقط پینے پلانے کے لئے پھول اشکوں کے میں پلکوں پہ سجا لایا ہوں اے محبت کے خدا تجھ کو منانے کے لئے لاکھ ڈھونڈا کسی گلشن میں نہ پایا میں نے ایک بھی پھول تری سیج سجانے کے لئے آپ چلمن سے نکلنے کے لئے ہاں تو کہیں لوگ تیار ہیں سینے سے لگانے کے لئے دل مرا توڑنے والوں سے یہ کہہ دو دلکشؔ زندگی چاہئے اس گھر کو بنانے کے لئے

dil ke viraane ko gulzaar banaane ke liye

غزل · Ghazal

آندھیوں میں دیا جلاتا ہوں غم میں رہ کر بھی مسکراتا ہوں میں فریبی نہیں ہوں میری جاں اس لئے میں فریب کھاتا ہوں تیری خوشیوں کے واسطے جاناں اپنی خوشیوں کو بھول جاتا ہوں میں سدا دوستوں کی چاہت میں دشمنوں کو گلے لگاتا ہوں تیری فرقت میں آنسوؤں کے دیے اپنی پلکوں پہ میں سجاتا ہوں شہر کے لوگ کانپ اٹھتے ہیں جب بھی تلوار میں اٹھاتا ہوں پی کے تھوڑی شراب اے دلکشؔ ظرف کو اپنے آزماتا ہوں

aandhiyon mein diyaa jalaataa huun

غزل · Ghazal

خوشی کے آنسوؤں سے درد کا رشتہ نہیں رہتا جہاں پیاسے نہیں رہتے وہاں دریا نہیں رہتا زمانہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے جس کو چاند تاروں میں وہ میرے دل میں رہتا ہے وہ بے پردہ نہیں رہتا امیدوں کے ستارے جھلملا کر ڈوب جاتے ہیں نظر کے سامنے جب چاند سا چہرہ نہیں رہتا نہ جانے کتنی تصویریں بگڑتی ہیں ابھرتی ہیں کبھی فرصت میں اپنے دل کا آئینہ نہیں رہتا وہ پت جھڑ کا زمانہ ہو یا وہ ساون کی راتیں ہوں مریض دل کسی موسم میں بھی اچھا نہیں رہتا

khushi ke aansuon se dard kaa rishta nahin rahtaa

غزل · Ghazal

اب کیا کروں گا یا رب تیرا جہان لے کر دھرتی پہ میں کھڑا ہوں اک آسمان لے کر وعدوں کی انجمن میں کچھ فائدہ نہیں ہے اپنی زبان دے کر میری زبان لے کر ہر شے دکھائی دیتی ہے صاف جس کی چھت سے ہم لوگ بس گئے ہیں ایسا مکان لے کر سینے میں رہ نہ جائیں موسم کی داستانیں پت جھڑ کو کیا ملے گا پھولوں کی جان لے کر راہ وفا میں ہم کو تم خوب آزماؤ اک امتحان کیا ہے سو امتحان لے کر آنچل کی لاج رکھنا ہوش و خرد سے آگے دیوانے بڑھ رہے ہیں تیرا نشان لے کر اس لفظ عاشقی میں لاکھوں پہیلیاں ہیں تم کیا کرو گے دلکشؔ یہ داستان لے کر

ab kyaa karungaa yaa-rab teraa jahaan le kar

غزل · Ghazal

کیا تم سے کہوں مجھ سے وہ کیا پوچھ رہا تھا مجھ سے ہی میرے گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا نفرت کے اسیروں سے مری سادگی دیکھو میں درد محبت کی دوا پوچھ رہا تھا بے باک نگاہوں کی طرف دیکھ کے میرا دل مجھ سے تڑپنے کا مزا پوچھ رہا تھا کیوں کر نہ کیا یاد مجھے وقت مصیبت لوگوں سے محبت کا خدا پوچھ رہا تھا اقرار محبت کا یہ انداز عجب ہے وہ کرکے خطا میری خطا پوچھ رہا تھا شاید وہ اسی بات پہ رونے لگے دلکشؔ میں جرم محبت کی سزا پوچھ رہا تھا

kyaa tum se kahun mujh se vo kyaa puchh rahaa thaa

غزل · Ghazal

خدا سے توبہ کرو درد کی صدا سے بچو غرور چھوڑو یتیموں کی بد دعا سے بچو تمہارے ہاتھ میں یہ جام دے کے چل دے گی جو ہو سکے تو خدارا تم اس گھٹا سے بچو اسی مہینے میں زخموں کے پھول کھلتے ہیں ہمیشہ موسم برسات کی ہوا سے بچو نہ جانے کب تمہیں یہ چور چور کر ڈالے تم آئنہ ہو تو پتھر کے اس خدا سے بچو وہ جن سے شہر میں امراض قلب پھیل گئے تم ایسے نیم حکیمان کی دوا سے بچو عراق آؤں گا صدام بن کے آؤں گا میں دھوکے باز نہیں ہوں مری ادا سے بچو یہ شہر عشق و محبت ہے پھر بھی اے دلکشؔ وفا شناس بنو اور بے وفا سے بچو

khudaa se tauba karo dard ki sadaa se bacho

Similar Poets