Mustafa Jameel
Mustafa Jameel
Mustafa Jameel
Ghazalغزل
خوشبو ہمارے پیار کی ہر سو بکھر تو جائے بستی سے اختلاف کا طوفاں گزر تو جائے میرا یقین ہے اسے مل جائے گا سکوں طوفان میری کشتی میں دو پل ٹھہر تو جائے تنقید و تبصرہ کوئی کچھ بھی کرے تو کیا میری غزل جناب کے دل میں اتر تو جائے اس سے لپٹ کے روئیں گی ساری اداسیاں شام غم فراق کبھی میرے گھر تو جائے پھر جائے وہ خلاؤں میں تحقیق کے لئے اپنے بدن کے غار میں پہلے اتر تو جائے ہے ان کی تربیت پہ نظر اس لئے مری بچوں میں میری ذات کا تھوڑا اثر تو جائے سمجھا نہ اس کی پیاس کو اب تک کوئی یہاں دریا کی تہہ میں کاش کسی کی نظر تو جائے یہ یاترا بھی امن کی دشمن نہ ہو کہیں لوگوں کے دل سے پہلے یہ خوف و خطر تو جائے کہتے تھے یہ جمیلؔ سے کل مصطفیٰ جمیلؔ میری نظر سے آگے کسی کی نظر تو جائے
khushbu hamaare pyaar ki har su bikhar to jaae
تو اپنے آپ میں مجھ کو رسا بسا رکھنا پھر اپنے سامنے کمرے میں آئنہ رکھنا خدا شعور دے جینے کا عزم و ہمت سے ہمارے واسطے ہونٹوں پہ یہ دعا رکھنا ہم اپنے دور کے سورج ہیں خود چمکتے ہیں ہمارے گھر سے اندھیرو نہ واسطہ رکھنا ہمارے بعد کی نسلیں ضرور مانگیں گی ہماری خاک بچا کر ذرا ہوا رکھنا جمیلؔ لاکھ برا ہے مگر تمہارا ہے تم اس کی لاج سر حشر مصطفیٰ رکھنا
tu apne aap mein mujh ko rasaa basaa rakhnaa
مجبور ہو گیا تو فضا میں بکھر گیا ماحول ایسا پایا کہ بے موت مر گیا اک اجنبی کو راستہ بتلانا شہر کا مجھ کو تمام گاؤں میں بدنام کر گیا زندہ تھا وہ تو کوئی اسے پوچھتا نہ تھا لیکن وہ جب مرا تو بڑا نام کر گیا سچ بات بھی زباں سے کوئی بولتا نہیں جیسے ہر ایک شخص کا احساس مر گیا شعلے سے اب بھی اٹھتے ہیں اس خاک سے جمیلؔ گھر کو جلے ہوئے تو زمانہ گزر گیا
majbur ho gayaa to fazaa mein bikhar gayaa
سجدوں میں عاجزی کا مزہ ہم سے پوچھئے بے لوث بندگی کا مزہ ہم سے پوچھئے لوگو بڑے خلوص سے لوٹے گئے ہیں ہم رہبر کی رہبری کا مزہ ہم سے پوچھئے ترک تعلقات پہ آنسو نکل پڑے برسوں کی دوستی کا مزہ ہم سے پوچھئے ہو کر جدا وہ مجھ سے مرے ساتھ ساتھ ہے اس ربط باہمی کا مزہ ہم سے پوچھئے ہم نے اسے قریب سے دیکھا ہے بارہا کم بخت مفلسی کا مزہ ہم سے پوچھئے انسانیت زمانے میں مفلوج ہو گئی تہذیب کی غمی کا مزہ ہم سے پوچھئے جب ذکر مصطفیٰ میں تھے مصروف ہم جمیلؔ اس وقت کی خوشی کا مزہ ہم سے پوچھئے
sajdon mein aajizi kaa maza ham se puchhiye
وہ لوگ وقت کو اپنا غلام کرتے ہیں جو حادثوں کو ادب سے سلام کرتے ہیں تمہارے شہر میں تصویریں بولتی ہوں گی ہمارے گاؤں میں پتھر کلام کرتے ہیں مری سنو تو یہ بوڑھا درخت مت کاٹو سنا ہے اس پہ پرندے قیام کرتے ہیں ہم اپنے فرض سے غافل کبھی نہیں رہتے وفا کی رسم کو دنیا میں عام کرتے ہیں انہیں قبیلوں پہ فاقوں کی بارشیں برسیں جو اپنے کھیتوں میں دن رات کام کرتے ہیں وقار غیرت قومی کو شرم آتی ہے وطن میں ایسے بھی کچھ لوگ کام کرتے ہیں یہ مصطفیٰ کا کرم ہے جمیلؔ پر اپنے تمام لوگ مرا احترام کرتے ہیں
vo log vaqt ko apnaa ghulaam karte hain





