SHAWORDS
M

Mustahsin Khayal

Mustahsin Khayal

Mustahsin Khayal

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جب کہ مانوس تھا آلام کے گرداب سے بھی مل گیا زہر تمسخر کئی احباب سے بھی میرے رستے ہوئے زخموں کا مداوا نہ ہوا یہ شکایت ہے ترے شہر کے آداب سے بھی اب انہیں آنکھ کی پتلی میں چھپانا ہوگا داغ جو دھل نہ سکے چشمۂ مہتاب سے بھی کوئی تو زخم مرا ساز تکلم چھیڑے کوئی تو بات چلے دیدۂ پر آب سے بھی چشم بے خواب کے خوابوں کی جو تعبیر بنا وہی دکھلا گیا آنکھوں کو کئی خواب سے بھی میرا کیا ذکر ہے گلشن بھی ہے مغموم خیالؔ ہو گئے آپ خفا گوشۂ شاداب سے بھی

jab ki maanus thaa aalaam ke girdaab se bhi

غزل · Ghazal

شب فراق کے دم توڑے ہوئے لمحو مری طرح سے ستاروں کا نوحہ سنتے ہو؟ دیار جاں میں بگولوں کا رقص جاری ہے مرے اداس خیالو کواڑ مت کھولو گئے دنوں کی محبت یہ دن ملال کے ہیں نئے دنوں کی محبت کو طاق پر رکھ دو کبھی ملو تو سہی بر بنائے مطلب ہی ہمیں بھی بخش دو سرمایۂ غرور اب تو سنا ہے کلیاں چٹکتی ہیں مسکرانے سے یہ تجربہ ہی سہی مسکرا کے دیکھو تو تمام رات جو لڑتا رہا اندھیروں سے خیالؔ اب وہ ستارہ بھی گم ہوا دیکھو

shab-e-firaaq ke dam toDe hue lamho

غزل · Ghazal

اب یہ کھلا کہ عشق کا پندار کچھ نہیں دیوار گر گئی پس دیوار کچھ نہیں جس نے سمجھ لیا تھا مجھے آسمان پر اب جانتا ہے وہ مرا کردار کچھ نہیں خود مجھ کو اعتماد نہیں اپنی ذات پر انکار میرا کچھ نہیں اقرار کچھ نہیں وہ بھی سمجھ گیا کہ ہوس کا یہ کھیل ہے اب مدح چشم و گیسو و رخسار کچھ نہیں مضراب غم نے اور بھی خاموش کر دیا گو کھنچ گیا ہے ساز کا ہر تار کچھ نہیں میں بوجھ ہوں تو پھینک دے اے کرۂ زمین کچھ اور تیز گھوم یہ رفتار کچھ نہیں دھندلا گیا ہے شیشۂ معصومیت خیالؔ اب انفعال چشم گنہ گار کچھ نہیں

ab ye khulaa ki ishq kaa pindaar kuchh nahin

غزل · Ghazal

اس خزاں کی رت میں اپنا ساتھ اچھا رہ گیا سب پرائے ہو گئے اک میں ہی اپنا رہ گیا زندگی ہموار تھی تو ساتھ تھا انبوہ ایک زندگی کے موڑ پر پہنچا تو تنہا رہ گیا کل سجا تھا جن کے چہروں پر محبت کا نقاب کتنی حیرت سے انہیں میں آج تکتا رہ گیا ایک سایہ تھا چلا صبح ازل مجھ سے طویل آفتوں کا آفتاب آیا تو چھوٹا رہ گیا وہ زمانہ تھا کبھی کہ تھا ہجوم اک صبح و شام یاد تھا سب کچھ ہمیں بس یاد اتنا رہ گیا جو کسی کے جسم کا کل تک رہا تھا اک لباس اب علیحدہ یوں ہوا کہ کوئی ننگا رہ گیا ہر حسیں چہرے پہ جم کر رہ گئی موسم کی گرد ہر حسیں چہرہ مرے البم کا دھندلا رہ گیا میں بھلا کیسے کروں پابندئ اہل فریب مصلحت میں ڈوب کر کیسے وہ سچا رہ گیا جب ہوئی ہے غم کی یورش ہر طرف سے بے حساب میں نے خوشیاں بانٹ دیں اور خود نہتا رہ گیا ہر کوئی ترک تعلق پر مصر ہے اب خیالؔ آ مرے دل تو بھی آ جا کس کا دھڑکا رہ گیا

is khizaan ki rut mein apnaa saath achchhaa rah gayaa

غزل · Ghazal

یہ ماہتاب یہ سورج کدھر سے آئے ہیں یہ کون لوگ ہیں یہ کس نگر سے آئے ہیں یہی بہت ہے مری انگلیاں سلامت ہیں یہ دل کے زخم تو عرض ہنر سے آئے ہیں بہت سے درد مداوا طلب تھے پہلے بھی اب اور زخم مرے چارہ گر سے آئے ہیں گرا دیا ہے جسے آندھیوں کے زور نے کل یہ خوش نوا اسی بوڑھے شجر سے آئے ہیں رکے نہیں ہیں کہیں قافلے تمنا کے فراز دار یہ لمبے سفر سے آئے ہیں ہم اپنے آپ کو کچھ اجنبی سے لگتے ہیں کہ جب سے لوٹ کر اس کے نگر سے آئے ہیں ہر ایک خط میں نگینے جڑے ہیں میں نے خیالؔ بہت سے لفظ مری چشم تر سے آئے ہیں

ye maahtaab ye suraj kidhar se aae hain

غزل · Ghazal

فریب ہجر میں لمحے سبھی وصال کے ہیں گئے دنوں کی محبت یہ دن ملال کے ہیں گئی رتوں کے فسانے ابھی نہیں بھولے یہ جتنے خواب ہیں آنکھوں میں گزرے سال کے ہیں یہ اپنا ظرف ہے خاموش ہو گئے ہم لوگ بہت جواب اگرچہ ترے سوال کے ہیں اگرچہ وجہ اذیت ہیں اب تو یادیں بھی مگر یہ سارے فسانے اسی جمال کے ہیں یہ دھوپ چھاؤں کے منظر خیالؔ دیکھ ذرا یہ سارے عکس اسی ذات با کمال کے ہیں

fareb-e-hijr mein lamhe sabhi visaal ke hain

Similar Poets