
Muzammil Husain Cheema
Muzammil Husain Cheema
Muzammil Husain Cheema
Ghazalغزل
ye jo tumhaari mohabbat se khauf aataa hai
یہ جو تمہاری محبت سے خوف آتا ہے مجھے ضرور ضرورت سے خوف آتا ہے سنا ہے حشر میں بھی تو مری نہیں سنے گا سنا ہے جب سے قیامت سے خوف آتا ہے تمہاری دید لیے دیکھ لیتا ہوں تم کو اگرچہ ایسی بصارت سے خوف آتا ہے میں اپنے شہر کا پہلا دریدہ صورت ہوں کچھ اس لیے بھی جراحت سے خوف آتا ہے
zulf rukh pe savaar karte hue
زلف رخ پہ سوار کرتے ہوئے مار ڈالا سنگھار کرتے ہوئے چومنے کو غلط نہ جانیں آپ پیار ہوتا ہے پیار کرتے ہوئے کیوں مرا اعتبار کرتے نہیں وہ مرا اعتبار کرتے ہوئے رابطہ ٹوٹنے لگا اس سے رابطہ استوار کرتے ہوئے توڑ بیٹھے وجود اپنا ہم عشق کو پائیدار کرتے ہوئے
miri ibaadatein jag par ayaan na ho jaaein
مری عبادتیں جگ پر عیاں نہ ہو جائیں یہ اس کا در ہے جبیں پر نشاں نہ ہو جائیں کچھ اس لیے بھی ضرورت تھی ہم کو مرہم کی کہیں یہ زخم ہماری زباں نہ ہو جائیں ہم ایسے خواب میں بھی یہ خیال رکھتے ہیں کہ تیری آنکھ سے آنسو رواں نہ ہو جائیں ہم اس لیے بھی نہیں دیکھتے جی بھر ان کو گماں ہوا وہ کہیں بد گماں نہ ہو جائیں
ek vo bhi vaqt kyaa khuub rahe hain miyaan
ایک وہ بھی وقت کیا خوب رہے ہیں میاں خواب کہ اب آنکھوں میں ڈوب رہے ہیں میاں ایسا نہیں ہے فقط ہجر کا چرچا ہوا وصل سے بھی پہلے منسوب رہے ہیں میاں لفظ ترے حسن کی طرح حسیں لفظ دوست شاعری کرنے کو مطلوب رہے ہیں میاں ہجر کے حامی تو دونوں ہی نہیں تھے مگر وصل میں بھی ہم کہ معیوب رہے ہیں میاں کس لیے ہم ایسوں کی تجھ کو ضرورت نہیں پہلے تو ہم ایسے محبوب رہے ہیں میاں
mujh pe us kaa asar nahin huaa hai
مجھ پہ اس کا اثر نہیں ہوا ہے ہجر ابھی معتبر نہیں ہوا ہے ہونے کو تیرے بعد بھی ہوا عشق تیرے جیسا مگر نہیں ہوا ہے اسے بھی مجھ سے مری طرح کا عشق ہونے والا تھا پر نہیں ہوا ہے یہ مکاں تھا مکان ہی ہے دوست تیرے آنے سے گھر نہیں ہوا ہے رکھ امید سخن کہ کچھ بھی تو وقت سے پیشتر نہیں ہوا ہے دل پہ رکھ ہاتھ ہونٹ چھوڑ میاں درد ادھر ہے ادھر نہیں ہوا ہے وہ مرے ساتھ چل رہا تھا فقط وہ مرا ہم سفر نہیں ہوا ہے جس نگہ میں سکوں رکھا گیا ہے اس نگہ میں سفر نہیں ہوا ہے
us se kyon koi puchhtaa hi nahin
اس سے کیوں کوئی پوچھتا ہی نہیں وہ اگر مجھ کو سوچتا ہی نہیں کہنے کو تو وہ جان ہے میری کہنے کا مجھ کو حوصلہ ہی نہیں میری منزل رکھی گئی ہے وہاں جس طرف کوئی راستہ ہی نہیں اس کے ہر پل کی ہے خبر مجھ کو ان دنوں جس سے رابطہ ہی نہیں اس کے اندر چبھا ہوا ہوں میں جانے کیوں مجھ کو ڈھونڈھتا ہی نہیں لوگ پوجیں وفائیں کرنے پر اور کوئی ایسا سلسلہ ہی نہیں سوچ کر جس کو لکھنے بیٹھتا ہوں میں نے اس کو غزلؔ لکھا ہی نہیں





