
Muzammil Sheikhpurvi
Muzammil Sheikhpurvi
Muzammil Sheikhpurvi
Ghazalغزل
mujhe har zakhm vo achchhe lage hain
مجھے ہر زخم وہ اچھے لگے ہیں تری جانب سے جو مجھ پہ لگے ہیں وہ میرے گھر بھلا آئے بھی کیسے مرے دروازے پہ تالے لگے ہیں کسی نے دل ہمارا توڑ ڈالا تبھی تو ہم غزل کہنے لگے ہیں گنوں میں ہجر کی راتوں کو کیسے یہ کچھ دن سال کے جیسے لگے ہیں نئے کچھ زخم دے دو پھر سے مجھ کو پرانے زخم اب بھرنے لگے ہیں اسے کیسے میں پھر سے یاد کر لوں بھلانے میں جسے عرصے لگے ہیں
kuchh nahin hogaa ab bayaan jaanaan
کچھ نہیں ہوگا اب بیاں جاناں ختم ہوتی ہے داستاں جاناں کیسے بولوں کہ تیرے جانے سے لٹ گیا میرا کارواں جاناں اب ملوں گا نہیں کبھی تم کو میں چلا سوئے آسماں جاناں یہ جو تم دور ہو گئے مجھ سے آ گیا کون درمیاں جاناں بن تمہارے یہ حال ہے میرا آب بن جیسے مچھلیاں جاناں تم نے بولا تھا یہ مزملؔ کو عشق ہوتا ہے جاوداں جاناں
zamin raund chuke aasmaan baaqi hai
زمین روند چکے آسمان باقی ہے ابھی کہیں نہ کہیں یہ جہان باقی ہے یہ دور پیسے کا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون بک گیا کس کی زبان باقی ہے کریں وہ لاکھ جتن پھر بھی کچھ نہیں ہوگا ابھی زمین پہ اس کا مکان باقی ہے ہمیں مٹا دو مگر حق تو چھپ نہیں سکتا گلا کٹا ہے ابھی تو زبان باقی ہے یہ کہہ کے چھوڑ دیا کیوں قلم مزملؔ نے ابھی تو اور بھی اک امتحان باقی ہے





