SHAWORDS
Naaz Muradabadi

Naaz Muradabadi

Naaz Muradabadi

Naaz Muradabadi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

aql gahvaara-e-auhaam hui jaati hai

عقل گہوارۂ اوہام ہوئی جاتی ہے ہر تمنا مری ناکام ہوئی جاتی ہے باعث شورش کونین ہے انساں کی خودی بے خودی مورد الزام ہوئی جاتی ہے اپنے پروانوں کو اے شمع مسلسل نہ جلا زندگی واقف انجام ہوئی جاتی ہے ہر روش پر چمن دہر میں یوں گل نہ کھلا ہر نظر دل کے لئے دام ہوئی جاتی ہے یوں بھی کوئی رخ روشن سے اٹھاتا ہے نقاب ہر نظر مورد الزام ہوئی جاتی ہے کن فضاؤں میں ضیا ریز ہے اے مہر جمال خانۂ دل میں مرے شام ہوئی جاتی ہے ہو کے مجبور مسلسل غم و اندوہ سے نازؔ زندگی غرق مئے و جام ہوئی جاتی ہے

غزل · Ghazal

miri justuju kaa haasil miraa shauq-e-vaalihaana

مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہ مری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہ کوئی دل جہاں بنا ہے غم عشق کا نشانہ وہیں راس آ گئی ہے اسے گردش زمانہ کبھی یاد آ گئی ہے تو گھٹائیں چھا گئی ہیں میں کسے بتاؤں کیا ہے تری زلف کافرانہ مری شاعری میں پنہاں مرے دل کی دھڑکنیں ہیں مری ہر غزل ہے گویا غم عشق کا فسانہ یہ نظر نظر تباہی یہ قدم قدم مصیبت کہیں پست ہو نہ جائے مرا عزم فاتحانہ تری حمد کیا کریں گے یہ بیاں یہ لفظ و معنی ترا حسن بھی انوکھا تری ذات بھی یگانہ یہ فروغ گلستاں ہے کہ بہار سے عیاں ہے ترے حسن کی حقیقت مرے عشق کا فسانہ مری ہر غزل ہے گویا مری زندگی کا حاصل کہ ہر ایک شعر میں ہے مرا سوز عاشقانہ یہ ہے ناز شوق انساں کہ رسائی ہے فلک تک مرے درد دل کو لیکن نہ سمجھ سکا زمانہ

غزل · Ghazal

dil shab-e-furqat sukun ki justuju kartaa rahaa

دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہا رات بھر دیوار و در سے گفتگو کرتا رہا جو بہاروں کی چمن میں آرزو کرتا رہا نذر رنگ و بو خود اپنا ہی لہو کرتا رہا اپنی نظروں کو خراب جستجو کرتا رہا جو مسلسل امتیاز رنگ و بو کرتا رہا شیشۂ دل جو نزاکت میں گہر سے کم نہیں عشق میں کیسے ستم سہنے کی خو کرتا رہا عاشقی میں اس کی ناکامی بھی ناکامی نہیں جو فنا ہو کر بھی تیری جستجو کرتا رہا تیری چشم مست سے پینے کے جو قابل نہ تھا میکدے میں خواہش جام و سبو کرتا رہا سوچنا یہ ہے کہ اس کے خون دل کو کیا ہوا جو قفس میں آرزوئے رنگ و بو کرتا رہا دل نے جوش شوق میں کتنے ہی سجدے کر لئے دیدۂ تر خون دل سے ہی وضو کرتا رہا جس نے پیہم کوششیں کیں امن عالم کے لئے وہ خود اپنے ہی چمن کو سرخ رو کرتا رہا وہ ستم ڈھاتے رہے ہر دل پہ اور ہر زخم دل شکوۂ بیداد انہیں کے روبرو کرتا رہا ایسے دیوانے کو کیا چاک گریباں کی ہو قدر عمر بھر جو چاک دامن ہی رفو کرتا رہا سارے عالم کو رہی اے نازؔ اس کی جستجو اپنے جلووں کو عیاں وہ کو بہ کو کرتا رہا

غزل · Ghazal

ghunche ghunche pe gulistaan ke nikhaar aa jaae

غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے جس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائے ہر نفس حشر بہ داماں ہے جنون غم میں کس طرح اہل محبت کو قرار آ جائے وہ کوئی جام پلا دیں تو نہ جانے کیا ہو جن کے دیکھے ہی سے آنکھوں میں خمار آ جائے غیر ہی سے سہی پیہم یہ کدورت کیوں ہو کہیں آئینۂ دل پر نہ غبار آ جائے کچھ اس انداز سے ہے حسن پشیمان جفا کوئی مایوس وفا دیکھے تو پیار آ جائے نازؔ گھر سے لئے جاتا ہے سوئے دشت مجھے وہ جنوں جس سے بیاباں کو بھی عار آ جائے

غزل · Ghazal

guzar kar aadmi raah-e-musibat se sanvartaa hai

گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہے قمر کا نور شب کی ظلمتوں میں ہی نکھرتا ہے بجز درد حیات غم نہیں ملتا کہیں کچھ بھی بشر دنیائے فانی میں جہاں سے بھی گزرتا ہے گلوں کی پتیاں جیسے گلوں سے روٹھ جاتی ہیں دم تنہائی غم کچھ مرا دل یوں بکھرتا ہے بہ صورت قطرۂ شبنم ہوں میں خار گلستاں پر مرا دل زحمت مہر درخشاں سے بھی ڈرتا ہے یہ دیکھا ہے نہیں بے فیض آمد ابر نیساں کی کوئی انجام ہوتا ہے بشر جو کچھ بھی کرتا ہے فرشتوں کا گزر جن منزلوں سے غیر ممکن ہے بشر کی عظمتیں دیکھو وہاں سے بھی گزرتا ہے نکوہش ناخن ناداں پہ قابو پا ہی جاتی ہے بڑا پرہیز کرتے ہیں کہیں تب زخم بھرتا ہے سنبھل اے فرقۂ عشاق اب پھر امتحاں ہوگا سر چلمن کسی کافر کا پھر گیسو سنورتا ہے الجھتے ہیں ترے کوچے میں جو مرغ چمن کے پیر دم پرواز گلشن سے کسی کا دل بھی بھرتا ہے فنا کرتا ہے پہلے زندگی کی ہر تمنا کو کہیں تب جا کے انساں پستئ غم سے ابھرتا ہے اسی باعث وفور غم میں اکثر نازؔ ہنستے ہیں مصیبت اور بڑھتی ہے جو غم سے جتنا ڈرتا ہے

غزل · Ghazal

vo kaun hai duniyaa mein jo majbur nahin hai

وہ کون ہے دنیا میں جو مجبور نہیں ہے انساں کو کسی بات کا مقدور نہیں ہے ہر شے پہ ترے حسن کا جادو ہے ازل سے کیا چیز ترے حسن سے مسحور نہیں ہے محکوم بنا لیتا بشر ارض و سما کو لیکن وہ کرے کیا اسے مقدور نہیں ہے دنیا میں اسے عیش و مسرت نہ ملیں گے وہ دل جو غم عشق سے رنجور نہیں ہے مانا کہ حقیقت کو سمجھنا نہیں آساں انسان حقیقت سے مگر دور نہیں ہے ہے صاحب ایماں کی کمی اہل جہاں میں اک راز بھی ورنہ ترا مستور نہیں ہے اٹھو کہ زمانے کو گناہوں سے بچائیں جو دن ہے قیامت کا وہ دن دور نہیں ہے کچھ کیجیے اعمال سنور جائیں جہاں میں کچھ سوچئے اب وقت قضا دور نہیں ہے طوفان کی ہر موج ہے اک درس حقیقت ساحل پہ پہنچنا مجھے منظور نہیں ہے احساس صداقت جو نہیں اہل طلب میں چہروں پہ بھی ایمان کا وہ نور نہیں ہے مانا کہ ہر اک عشرت عالم ہے میسر انسان مگر آج بھی مسرور نہیں ہے ہر قوم کا احساس نہیں جس کے عمل میں دراصل وہ جمہور بھی جمہور نہیں ہے ہے نازؔ کا ہر شعر خود اک شمع فروزاں یہ بات الگ ہے کہ وہ مشہور نہیں ہے

Similar Poets