SHAWORDS
Nabeel Ahmad Nabeel

Nabeel Ahmad Nabeel

Nabeel Ahmad Nabeel

Nabeel Ahmad Nabeel

poet
42Ghazal

Ghazalغزل

See all 42
غزل · Ghazal

aise vo daastaan khinchtaa hai

ایسے وہ داستان کھینچتا ہے ہر یقیں پر گمان کھینچتا ہے تیری فرقت کا ایک اک لمحہ جسم سے میری جان کھینچتا ہے جب بھی میں آسماں کو چھونے لگوں پاؤں کو مہربان کھینچتا ہے منزل زیست کے کسی بھی طرف اپنی جانب نشان کھینچتا ہے میں حقیقت جہاں بھی لکھتا ہوں وہ وہی داستان کھینچتا ہے جب حقیقت بیاں کروں اس کی میرے منہ سے زبان کھینچتا ہے سر زمین وطن پہ اب وہ نبیلؔ اپنا ہر سو مکان کھینچتا ہے

غزل · Ghazal

ik yahi ab miraa havaala hai

اک یہی اب مرا حوالہ ہے روح زخمی ہے جسم چھالا ہے سیکڑوں بار سوچ کر میں نے تیرے سانچے میں خود کو ڈھالا ہے کھنچنے والا ہے آسماں سر سے حادثہ یہ بھی ہونے والا ہے اک خدا ترس موج نے مجھ کو ساحلوں کی طرف اچھالا ہے غالب آئی ہوس محبت پر آرزوؤں کا رنگ کالا ہے اک طرف جام عافیت کے ہیں اک طرف زہر کا ہی پیالہ ہے کار دنیا کی آرزو نے نبیلؔ مجھ کو سو الجھنوں میں ڈالا ہے

غزل · Ghazal

aisi uljhan ho kabhi aisi bhi rusvaai ho

ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو دل کے ہر زخم میں دریاؤں کی گہرائی ہو عشق میں ایسے کسی کی بھی نہ رسوائی ہو ہر قدم پاؤں میں زنجیر نظر آئی ہو اس طرح یاد تری دل میں چلی آئی ہو جس طرح کوئی کلی شاخ پہ مسکائی ہو یوں گزرتے ہیں ترے ہجر میں دن رات مرے جان پہ جیسے کسی شخص کے بن آئی ہو دید سے پیاس بجھے چشم تمنا کی کبھی حسن زیبا سے دل زار کی زیبائی ہو تو قریب آیا تو ایسا مجھے محسوس ہوا تیری خوشبو مری سانسوں میں سمٹ آئی ہو ایسے بوجھل ہیں ترے بعد محبت کے قدم جیسے لڑکی کسی دیہات کی گھبرائی ہو ایک عرصہ ہوا منظر نہیں دیکھا کوئی حسن زیبا سے مری آنکھ میں رعنائی ہو مل بھی سکتا ہے ہمیں منزل ہستی کا سراغ وقت نے پاؤں میں زنجیر نہ پہنائی ہو اس طرح دیکھتا ہے مجھ کو وہ اک شخص یہاں جس طرح ایک زمانے کی شناسائی ہو راستے ایسے چمک اٹھتے ہیں رفتہ رفتہ منتظر جیسے نظر راہ میں پھیلائی ہو کاش ایسا بھی کوئی لمحہ میسر آ جائے عشق کی بات بنے غم کی پذیرائی ہو ایسے سینے میں پریشان ہے دل کا ہونا ہر طرف دھول ہو ہر اور میں تنہائی ہو دل بھی جلتا ہو جدائی میں شرارے کی طرح گیلی لکڑی کی طرح جان بھی سلگائی ہو گلشن زیست میں رقصاں ہو بہاروں کا سماں تیرے آنچل سے ہر اک شاخ ہی رنگوائی ہو حسن کو عشق کے آ جائیں جو آداب کبھی آنکھ شیدائی نہ ہو دل نہ تمنائی ہو عرصۂ زیست میں ایسا نہ کوئی لمحہ ملا کسی ساعت نے کلی پیار کی مہکائی ہو دائرے ایسے بناتی ہے یہاں قوس قزح ہو بہ ہو جیسے کسی شوخ کی انگڑائی ہو زندگی ایسے کٹی طعنہ و دشنام کے ساتھ میرا ہونا بھی مرے غم کا شناسائی ہو چین آتا ہے تمنا کو نہ ارماں کو سکوں جب محبت کی کلی خوف سے مرجھائی ہو بیچ کے خود کو بھی خوشیاں نہ خریدی جائیں تیری دنیا میں نہ ایسی کبھی مہنگائی ہو مجھ کو گل رنگ بہاروں سے یہی لگتا ہے جیسے پروا تری خوشبو کو لیے آئی ہو دیکھ کر رنگ بہاروں کے مجھے لگتا ہے جیسے چنری کسی دوشیزہ نے پھیلائی ہو پھول کی طرح سبھی داغ مہکنے لگ جائیں کاش ایسا بھی کہیں طرز مسیحائی ہو کیسا منظر ہو کہ سر پھوڑتے دیوانوں کے سنگ ہو ہاتھ میں اور سامنے ہرجائی ہو ہے مزاج اپنا الگ اپنی طبیعت ہے جدا کیسے اس دور کے لوگوں سے شناسائی ہو وہ سخن ور جو سخن ور ہیں حقیقی صاحب ایسے لوگوں کا کبھی جشن پذیرائی ہو زخم اس شوخ نے اس بار لگایا وہ نبیلؔ جیسے بپھرے ہوئے دریاؤں کی گہرائی ہو چائے کا کپ ہو نبیلؔ اور کسی کی یادیں رات کا پچھلا پہر عالم تنہائی ہو ایسی حالت میں نظر آیا ہے وہ آج نبیلؔ جیسے شعروں میں کوئی قافیہ پیمائی ہو

غزل · Ghazal

hai jo bigDi hui surat miri bimaari ki

ہے جو بگڑی ہوئی صورت مری بیماری کی پیار میں مجھ سے کسی شخص نے غداری کی ہر طرف خون خرابہ کیا لوگوں نے بپا شعر تخلیق کیے میں نے غزل جاری کی ہر نفس سینے میں پتھر کی طرح لگتا ہے زندگی مجھ پہ ستم کیش نے یوں بھاری کی یہ الگ بات کہ ہر لحظہ پریشاں میں ہوں میں نے سچائی کی اس پر بھی طرف داری کی میں نے ہر بار حقیقت کی نظر سے دیکھا اس نے ہر بار مرے ساتھ اداکاری کی پھول کی مثل مہک اٹھے گا قریہ قریہ اپنے اس دیس کی جب ہم نے کماں داری کی قافلے والوں کو منزل نہ ملی برسوں سے یہ بھی خوبی ہے تری قافلہ سالاری کی زندگی اپنے بھروسے پہ گزاری میں نے وارث تخت نے کب میری نگہ داری کی اس سے بدلے گا مرے شہر کا سارا منظر لہر جو اٹھی مرے شہر میں بے داری کی رشک آتا ہے ہمیں اپنے مقدر پہ نبیلؔ آل احمد کی سدا ہم نے عزا داری کی

غزل · Ghazal

sau uljhanon ke beach guzaaraa gayaa mujhe

سو الجھنوں کے بیچ گزارا گیا مجھے جب بھی تری طلب میں سنوارا گیا مجھے کم ہو سکا نہ پھر بھی مرا مرتبہ اگر پستی میں آسماں سے اتارا گیا مجھے سلجھی نہ ایک بار کہیں زلف زندگی گرچہ ہزار بار سنوارا گیا مجھے اپنے مفاد کے لیے میدان جنگ میں جیتا گیا کبھی کبھی ہارا گیا مجھے دھویا گیا بدن مرا اشکوں کے آب سے میرے لہو کے ساتھ نکھارا گیا مجھے پھر بھی رواں دواں ہوں میں موج حیات میں سو بار گرچہ دہر میں مارا گیا مجھے رکھ کر چلوں گا جان ہتھیلی پہ میں نبیلؔ مقتل سے جس گھڑی بھی پکارا گیا مجھے

غزل · Ghazal

duur kuchh ahl-e-junun ki be-qaraari kijiye

دور کچھ اہل جنوں کی بے قراری کیجیے ہو سکے تو ان کی تھوڑی غم گساری کیجیے جن کے بستر سے نہیں جاتی کوئی سلوٹ کبھی ان کی آنکھوں میں وفا کے خواب جاری کیجیے عشق کی قسمت یہی ہے عشق کا منصب یہی جاگیے شب بھر یوں ہی اختر شماری کیجیے نوچیے زخم جگر کو آنکھ بھر کر روئیے اور کب تک ہجر میں یوں آہ و زاری کیجیے بھیجئے کوئی بلاوا کوئی چٹھی بھیجئے اپنے ان پردیسیوں سے شہر داری کیجیے لوگ ہیں تیار ہجرت کے لیے اس شہر سے پھر کوئی تازہ نیا فرمان جاری کیجیے پھر کوئی تازہ بپا ہونے کو ہے اک معرکہ نہر فرات کربلا کو پھر سے جاری کیجیے کام آئے گا نہ کوئی مشکلوں میں دیکھنا جس قدر بھی دوستوں سے وضع داری کیجیے تشنۂ تکمیل ٹھہرے بات نہ کوئی نبیلؔ گفتگو جتنی بھی ہے دل میں وہ ساری کیجیے آئے گا کب سانس ورنہ دوسرا تجھ کو نبیلؔ دل کے زخموں کی نہ ایسے پردہ داری کیجیے

Similar Poets