SHAWORDS
Nadeem Asghar

Nadeem Asghar

Nadeem Asghar

Nadeem Asghar

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

yaadon ki dhuul se miraa maazi aTaa huaa

یادوں کی دھول سے مرا ماضی اٹا ہوا بھولوں تو کس طرح ترا چہرہ رٹا ہوا تجھ سے فقط دعا ہے کہ پھر سے بحال کر آنکھوں سے ہے جو خواب کا رشتہ کٹا ہوا بت پوجتا ہوں کعبۂ دل میں ہیں بت کدے رہتا ہوں اپنی ذات کے اندر بٹا ہوا آؤ بڑھا کے ہاتھ سمیٹیں کسی طرح بنجر زمیں کے واسطے بادل چھٹا ہوا سانسیں بھی مل کے موت سے سازش کریں ندیمؔ دکھ ہے کہ میرے حق میں مسلسل ڈٹا ہوا

غزل · Ghazal

zaad-e-rah mukammal hai

زاد رہ مکمل ہے حوصلہ مکمل ہے خواب مر چکے ہیں سب سانحہ مکمل ہے عشق جو کیا تم سے با خدا مکمل ہے تم کہو جو کہنا ہے تخلیہ مکمل ہے اب کہیں نہ بھٹکوں گا یہ خدا مکمل ہے ماں نے ہاتھ اٹھائے ہیں یہ دعا مکمل ہے تم نے جو سنائی ہے بات کیا مکمل ہے اب کسی کو کیا دیکھوں دل دیا مکمل ہے اس کی آنکھ کہتی ہے شاعرہ مکمل ہے ایک بوسہ کافی ہے ناشتہ مکمل ہے

غزل · Ghazal

zaraa Thahro miri haalat sanbhal jaae to phir jaanaa

ذرا ٹھہرو مری حالت سنبھل جائے تو پھر جانا دل بیتاب تھوڑا سا بہل جائے تو پھر جانا ابھی تو فرقتوں کے سحر سے نکلا نہیں ہوں میں تمہارے وصل کا جادو یہ چل جائے تو پھر جانا جمی ہیں دھڑکنیں تو منجمد ہیں میری سانسیں بھی بدن میں زندگی تھوڑی مچل جائے تو پھر جانا ابھی جاؤ نہ تم جکڑا ہوا ہے درد نے مجھ کو تمہارے درد کا لوہا پگھل جائے تو پھر جانا تمہارے وصل سے جینے کی خواہش پھر سے جنمی ہے یہ ننھی سی تمنا پھول پھل جائے تو پھر جانا

غزل · Ghazal

andheraa jhel letaa huun sitaare chhoD detaa huun

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں بہت باتیں بناتا ہوں میں کافی بولتا بھی ہوں مگر جو گفتگو ہو تیرے بارے چھوڑ دیتا ہوں کسی کا قرض کاندھے پر اٹھانے سے میں ڈرتا ہوں میں قصداً ڈوب جاتا ہوں سہارے چھوڑ دیتا ہوں

غزل · Ghazal

is dil se teri yaad ke haale nahin gae

اس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے تو جا چکا ہے تیرے اجالے نہیں گئے برسوں سے ایڑیاں ہی رگڑتے رہے ہیں خواب تب ہی تو میری آنکھ سے چھالے نہیں گئے سو بار چھانٹنے کا جتن کر چکا ہوں میں کچھ لوگ زندگی سے نکالے نہیں گئے سورج کی روشنی سے بہت بار دھو چکا مولا جو من کے داغ ہیں کالے نہیں گئے مرتی ہی جائے گی یہ بصارت مرے ندیمؔ آنکھوں میں دید کے جو نوالے نہیں گئے

غزل · Ghazal

dil kaTore par jami ye kaai rah jaae to phir

دل کٹورے پر جمی یہ کائی رہ جائے تو پھر گھر کا حصہ مل بھی جائے بھائی رہ جائے تو پھر خواب ڈھونڈیں راستہ کیسے در آئیں آنکھ میں نیند بستر کے سرہانے آئی رہ جائے تو پھر کیوں مشینوں کی طرح بے حس ہوئے جاتے ہیں ہم یوں ہی پہنا سوٹ بوٹ اور ٹائی رہ جائے تو پھر تم کہو تو زندگی کے ایسے رخ دکھلاؤں میں تم پہ پہروں بد حواسی چھائی رہ جائے تو پھر ساری دنیا ساری سانسیں گروی رکھ کے دیکھ لو قرض پھر بھی ماں کا پائی پائی رہ جائے تو پھر

Similar Poets