
Nadeem Mahir
Nadeem Mahir
Nadeem Mahir
Ghazalغزل
gard-o-ghubaar yuun baDhaa chehra bikhar gayaa
گرد و غبار یوں بڑھا چہرہ بکھر گیا ملبوس تھا میں جس میں لبادہ بکھر گیا کل رات جگنوؤں کی سمندر پہ بھیڑ تھی لگتا تھا روشنی کا جزیرہ بکھر گیا دہشت تھی اس قدر کہ مناظر پگھل گئے گر کر بدن سے خود مرا سایہ بکھر گیا منظر میں اور نظر میں تصادم تھا رات بھر جب بھی اٹھی نگاہیں دریچہ بکھر گیا جاں سے زیادہ رکھا جسے احتیاط سے ورثے میں جو ملا تھا وہ تحفہ بکھر گیا طوفان یاد رفتگاں اتنا شدید تھا اشکوں سے میری آنکھ کا تارا بکھر گیا
ham buzurgon ki aan chhoD aae
ہم بزرگوں کی آن چھوڑ آئے خاندانی مکان چھوڑ آئے اس قبیلے میں سارے گونگے تھے ہم جہاں پر زبان چھوڑ آئے اس کا دروازہ بند پایا تو دستکوں کے نشان چھوڑ آئے روٹی کپڑے مکان کی خاطر روٹی کپڑا مکان چھوڑ آئے ایک اس کو تلاش کرنے میں ہم زمیں آسمان چھوڑ آئے اب سفر ہے یقین کی جانب وسوسے اور گمان چھوڑ آئے
baam-o-dar par reingti parchhaaiyaan
بام و در پر رینگتی پرچھائیاں مجھ سے اب مانوس ہیں تنہائیاں اب سمندر بھی بہت سطحی ہوئے اب رہیں ان میں نہ وہ گہرائیاں خانۂ دل کو کرو آباد پھر مجھ کو لوٹا دو وہی رعنائیاں اک تھکن سی جسم پر طاری ہوئی ٹوٹ کر گرنے لگیں پرچھائیاں
suraj aur mahtaab bikharte jaate hain
سورج اور مہتاب بکھرتے جاتے ہیں جینے کے اسباب بکھرتے جاتے ہیں اطلس اور کم خواب بکھرتے جاتے ہیں گویا کہ احباب بکھرتے جاتے ہیں قطرہ قطرہ نیند پگھلتی رہتی ہے ریزہ ریزہ خواب بکھرتے جاتے ہیں دلدل اتنی پھیل گئی ہے رستے میں اب تو سب اعصاب بکھرتے جاتے ہیں اک انبار آب و گل ہے یہ پیکر ہالے اور گرداب بکھرتے جاتے ہیں
tiri yaadon ki naqqaashi khurach kar pheink aae hain
تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیں جھلستی ریت پر ہم اک سمندر پھینک آئے ہیں عقیق و نیلم و لعل و جواہر پھینک آئے ہیں سمندر میں عجب منظر شناور پھینک آئے ہیں تری یادیں تری باتیں سبھی اوراق پارینہ ہم اک اک کر کے سب دل سوز منظر پھینک آئے ہیں تلاطم ہو کہ طوفاں ہو یہ دریا پار کرنا ہے ہم اپنی کشتیاں موجوں کے اندر پھینک آئے ہیں
zamin-o-aasmaan ki saari partein chikh uThti hain
زمین و آسماں کی ساری پرتیں چیخ اٹھتی ہیں وہ واحد لم یزل ہے سب دلیلیں چیخ اٹھتی ہیں کہانی میں مری پنہاں عجب سا کرب ہے غم ہے قلم خاموش ہو جائے تو سطریں چیخ اٹھتی ہیں گزاروں کس طرح لمحے اب اس شہر خموشاں میں زبوں حالی پہ اب میری فصیلیں چیخ اٹھتی ہیں ردیف و قافیہ کی ان دنوں اوقات ہی کیا ہے غلط ہاتھوں میں پڑ جائیں تو بحریں چیخ اٹھتی ہیں تلاطم ہے عجب سا میرے اندر آج کل ماہرؔ بھنور خاموش ہوتا ہے تو لہریں چیخ اٹھتی ہیں





