SHAWORDS
N

Nadir Siddiqui

Nadir Siddiqui

Nadir Siddiqui

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

har koi shahr mein paaband-e-anaa lagtaa hai

ہر کوئی شہر میں پابند انا لگتا ہے کیا تماشا ہے کہ ہر شخص خدا لگتا ہے میں نے ہجرت کے بیاباں میں ریاضت کی ہے اب یہ جنگل مجھے فردوس نما لگتا ہے دیدۂ شوخ میں دیکھا ہے اتر کر میں نے حسن پندار ہے پردے میں بھلا لگتا ہے جب ترے غم سے نکلنے کی نہ صورت نکلے تیرا وحشی کسی دیوار سے جا لگتا ہے اس کو سرکار کے بوسے کا شرف حاصل ہے ورنہ کالا سا یہ پتھر مرا کیا لگتا ہے اب بھی جاتا ہوں کٹے پیڑ کا سایہ لینے مدتوں سے جو بھلا تھا سو بھلا لگتا ہے

غزل · Ghazal

phir apne-aap se us ko hijaab aataa hai

پھر اپنے آپ سے اس کو حجاب آتا ہے تھرکتی جھیل پہ جب ماہتاب آتا ہے دکھائیے نہ ہمیں آپ موسمی آنسو کہ یہ ہنر تو ہمیں بے حساب آتا ہے وہ جس طریق سے اس نے سوال داغا ہے اسی طرح کا مجھے بھی جواب آتا ہے تو بارشوں سے شکایت سی ہونے لگتی ہے گلاب سا جو کوئی زیر آب آتا ہے میں اپنی آنکھ میں شبنم اتار لیتا ہوں وہ اپنی آنکھ میں جب لے کے خواب آتا ہے ابھی تو نام بھی اپنا نہیں ملا مجھ کو ابھی تو نام سے پہلے جناب آتا ہے

Similar Poets