SHAWORDS
Naeem Badauni

Naeem Badauni

Naeem Badauni

Naeem Badauni

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

شاداں بہت تھے زیست کی تصویر دیکھ کر اب رو رہے ہیں خواب کی تعبیر دیکھ کر آنکھوں میں اشک پاؤں میں زنجیر دیکھ کر وہ خود بھی رو پڑے مری تصویر دیکھ کر خط کے جواب میں ہیں ستاروں کی جھلکیاں شاید وہ روئے ہیں مری تحریر دیکھ کر دونوں جہاں کا حسن نگاہوں میں آ گیا اب کس کو دیکھوں آپ کی تصویر دیکھ کر تم تو غم حیات کی تصویر ہو نعیمؔ اب کیا کرو گے تم کوئی تصویر دیکھ کر

shaadaan bahut the ziist ki tasvir dekh kar

غزل · Ghazal

مشکلوں سے جو ڈر گئے ہوتے زندہ کب رہتے مر گئے ہوتے وہ نہ کرتے جو رہبری اپنی ہم نہ جانے کدھر گئے ہوتے گھر ہمارا اگر نہیں ہوتا حادثے کس کے گھر گئے ہوتے شہر کی زندگی سے بہتر تھا گاؤں میں اپنے مر گئے ہوتے کاش ہم بھی کسی کی راہوں میں خاک بن کر بکھر گئے ہوتے زندگی میں کبھی نعیمؔ آنسو دو گھڑی تو ٹھہر گئے ہوتے

mushkilon se jo Dar gae hote

غزل · Ghazal

زندگی بھر ہم سے مت پوچھو کہ کیا کرتے رہے گردش دوراں کا جم کر سامنا کرتے رہے گلستاں تو جل گیا لیکن محبان چمن آپ سے ہم پوچھتے ہیں آپ کیا کرتے رہے شہر سارا نفرتوں کی آگ میں جلتا رہا آپ تھے کہ گھر میں بیٹھے مشورہ کرتے رہے لٹ گیا سب کچھ تو گہری نیند سے آنکھیں کھلیں ہم کو کیا کرنا تھا یارو اور کیا کرتے رہے ان کی نظروں کو نہ بھایا دوسرا کوئی نعیمؔ مجھ پہ ہی وہ ہر ستم کی انتہا کرتے رہے

zindagi bhar ham se mat puchho ki kyaa karte rahe

غزل · Ghazal

غم کی گہرائی میں جس روز اتر جاؤں گا بن کے خوشبو میں زمانے میں بکھر جاؤں گا حد سے بڑھ جائے گا جب میرے جنوں کا عالم سنگ مارے گا زمانہ میں جدھر جاؤں گا تو مجھے چھوڑ کے مت جانا غم جاناناں تجھ سے بچھڑا تو میں تنہائی میں مر جاؤں گا وقت کے ساتھ بدل جائے گی سورج کی تپش وقت کی دھوپ میں جل کر میں نکھر جاؤں گا جن کے سائے میں سکوں پائیں زمانے والے پیار کے ایسے لگا کے میں شجر جاؤں گا میں اکیلا نہ چلوں گا رہ الفت میں نعیمؔ غم مرے ساتھ چلیں گے میں جدھر جاؤں گا

gham ki gahraai mein jis roz utar jaaungaa

غزل · Ghazal

اللہ جانے کیسا چمن پر عذاب ہے کانٹوں پہ ہے شباب فسردہ گلاب ہے ہر وقت مطمئن ہوں میں اپنی حیات سے مجھ پر کسی کا لطف و کرم بے حساب ہے دامن ہے چاک چہرہ فسردہ اور آنکھ نم جو کچھ بھی ہے یہ بخشش عالی جناب ہے تعبیر سب کو خواب کی ملتی نہیں مگر تعبیر جس کی تم ہو حقیقت وہ خواب ہے وہ خود بھی چل رہے ہیں زمانے کے ساتھ ساتھ اور پھر بھی کہہ رہے ہیں زمانہ خراب ہے منزل قدم نعیمؔ کے چومے گی ایک دن جب اس کے ساتھ آپ کا غم ہم رکاب ہے

allaah jaane kaisaa chaman par 'azaab hai

غزل · Ghazal

جب چراغوں کی طرف مائل ہوا ہو جائے گی زندگی جلتے چراغوں کی فنا ہو جائے گی زندگی ہے میری ہستی سے ترے دم کا وجود میں فنا ہو جاؤں گا تو بھی فنا ہو جائے گی مہربانی مجھ پہ فرما تو رہے ہیں سوچ لیں آپ سے کیا میرے زخموں کی دوا ہو جائے گی خود خفا ہو جائیں گے ہم زندگی سے ایک دن زندگی کیا دوستو ہم سے خفا ہو جائے گی زندگی میں آئے گا اس دن شباب اپنی نعیمؔ مجھ پہ جب ان کے ستم کی انتہا ہو جائے گی

jab charaaghon ki taraf maail havaa ho jaaegi

Similar Poets