Naeem Dehlavi
Naeem Dehlavi
Naeem Dehlavi
Ghazalغزل
نعیم آج میں اس شکل کو جواں دیکھا خدا کو صورت انسان میں عیاں دیکھا تو ہی ہے کعبہ میں اور تو ہی بت کدے میں ہے غرض کہ تجھ کو بھی ہم نے کہاں کہاں دیکھا کرو گے جور کسی اور پر تو جانو گے ابھی تو ظلم کا تم نے مزا کہاں دیکھا ہم اپنی دل کی تلاوت کو یاد کر روئے کسی کے حال پہ گر تجھ کو مہرباں دیکھا گرے ہم آن کے تب تیرے آستانے پر جہاں میں کوئی نہ جب تجھ سا قدرداں دیکھا اگرچہ یار تو تیرے ہزار ہوویں گے کوئی بھی ہم سا بھلا یار جاں فشاں دیکھا یقیں نعیمؔ کے احوال کا نہ تھا تجھ کو گیا نہ جی ہی سے آخر اے بد گماں دیکھا
naiim aaj main is shakl ko javaan dekhaa
رات کیا اضطرار تھا کیا تھا دل تو کیوں بے قرار تھا کیا تھا آج منکر ہے تو جو وعدہ سے کل جو ہم سے قرار تھا کیا تھا صبح کو تو جو ہم پہ برہم تھا کیا تجھے کچھ خمار تھا کیا تھا کل جو تو بے قرار تھا اے دل وعدۂ وصل یار تھا کیا تھا کیا ہوا اس نے کچھ کہا تھا نعیمؔ یار تھا پھر ہزار تھا کیا تھا
raat kyaa iztiraar thaa kyaa thaa
ملتے ہی دل نے ہم کو گرفتار کر دیا رسوائے شہر و کوچہ و بازار کر دیا پیارے قسم لے لے ہو دوبارہ اگر نظر ہاں یک نگاہ تم نے گنہ گار کر دیا گو ہم ذلیل و خوار ہوئے خلق میں میاں عالم کو آپ کا تو طلب گار کر دیا کرنے لگی ہو اب جو مرے ساتھ یہ سلوک شاید کسی نے تم کو خبردار کر دیا جو کچھ سلوک ہم سے کرو تم بجا ہے یار چوکے ہمیں جو تم کو نمودار کر دیا جاتے ہی مدرسے میں کل اوس بت نے اے نعیمؔ تسبیح شیخ رشتۂ زنار کر دیا
milte hi dil ne ham ko giraftaar kar diyaa
جو مزا اپنے یار میں دیکھا نہ کہو وہ بہار میں دیکھا خواب میں شب کو سرو دیکھا تھا صبح تجھ کو کنار میں دیکھا نہ کہو ہم نے دیکھا بسمل میں جو دل بے قرار میں دیکھا وصل نے یہ مزا کہاں پایا لطف جو انتظار میں دیکھا لطف گلزار و لالہ باغ نعیمؔ سینۂ داغدار میں دیکھا
jo mazaa apne yaar mein dekhaa
جو مزا اپنے یار میں دیکھا نہ کبھو وہ بہار میں دیکھا خواب میں شب کو سرو دیکھا تھا صبح تجھ کو کنار میں دیکھا نہ کبھو ہم نے دیکھا بسمل میں جو دل بے قرار میں دیکھا وصل نے یہ مزا کہاں پایا لطف جو انتظار میں دیکھا لطف گلزار و لالہ باغ نعیمؔ سینۂ داغدار میں دیکھا
jo mazaa apne yaar mein dekhaa
رات کیا اضطرار تھا کیا تھا دل ترا بیقرار تھا کیا تھا آج منکر ہے تو جو وعدہ سے کل جو ہم سے قرار تھا کیا تھا صبح کو تو جو ہم پہ برہم تھا کیا تجھے کچھ خمار تھا کیا تھا کل جو تو بیقرار تھا اے دل وعدۂ وصل یار تھا کیا تھا کیا ہوا اس نے کچھ کہا تھا نعیمؔ یار تھا پھر ہزار تھا کیا تھا
raat kyaa iztiraar thaa kyaa thaa





