SHAWORDS
N

Naeem Naaz

Naeem Naaz

Naeem Naaz

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کوئی رشتہ ترے پیمان سے جوڑا جائے اب مرے ہجر کو عنوان سے جوڑا جائے قصۂ حسن کو کنعان سے جوڑا جائے عشق کو پھر کسی زندان سے جوڑا جائے یہ تو پنچھی ہیں نئی رت میں پلٹ جائیں گے ربط کیسے کسی مہمان سے جوڑا جائے اشک سینے سے روانہ ہوئے آنکھوں کی طرف ان کی طغیانی کو طوفان سے جوڑا جائے تری تہذیب سے وحشت کو بھی خوف آتا ہے تری بستی کو بیابان سے جوڑا جائے

koi rishta tire paimaan se joDaa jaae

غزل · Ghazal

یہ کینوس پہ جو زرد چہرہ بنا رہے ہیں تمہیں خبر ہو خزاں کا نقشہ بنا رہے ہیں عجیب گھر ہے جو تیلیوں سے بنا ہوا ہے ہم اس میں مٹی سے اک پرندہ بنا رہے ہیں چھپا رہے ہیں بڑی مہارت سے عیب ان کا تبھی تو چہرے کا ایک حصہ بنا رہے ہیں ہوائیں کرنیں پرند خوشبو گزر سکیں گے اسے دریچہ نہ سمجھو رستہ بنا رہے ہیں بنا رہے ہیں ہم ایک پینٹنگ میں ایک پٹری اور اس میں ماضی کا ایک لمحہ بنا رہے ہیں

ye canvas pe jo zard chehra banaa rahe hain

غزل · Ghazal

عجیب منطق ہے اس کو سوچیں گے خوش رہیں گے ہم اپنی آنکھوں میں دھول جھونکیں گے خوش رہیں گے میں خستہ حالوں کی خستہ حالی پہ رو پڑا ہوں یہ لوگ کاغذ کے پھول بیچیں گے خوش رہیں گے کوئی تو ہے جو ہماری حالت پہ رو رہا ہے ہم اس کے ہونے کی خیر مانگیں گے خوش رہیں گے گزار لیں گے کسی دلاسے کی آڑ لے کر کسی کے آنے میں وقت کاٹیں گے خوش رہیں گے

ajiib mantiq hai us ko socheinge khush raheinge

غزل · Ghazal

اسے چھپا لیا تھا میں نے آنکھ میں یہ لوگ خواب میں بھی جھانکنے لگے مہک رہے ہیں یوں تو پھول اور بھی مگر جو زخم تیرے ہاتھ سے لگے میں جس لگن سے تجھ کو دیکھتا ہوں لوگ اسی لگن سے مجھ کو دیکھنے لگے تمہارے بعد کچھ نہیں کیا گیا ہم اپنے ساتھ وقت کاٹنے لگے چھوا تھا ایک بار اس کے ہاتھ کو پھر اس کے بعد پھول کھردرے لگے

use chhupaa liyaa thaa main ne aankh mein

غزل · Ghazal

اداس کمرے کے کونے کونے میں جیسے غصہ پڑا ہوا ہے یہ کپ میں چائے نہیں ہے پرسوں سے ایک لمحہ پڑا ہوا ہے ہماری بستی کے سارے باسی نئے سفر پر نکل پڑے ہیں پرانی چوپال میں پرانی پری کا قصہ پڑا ہوا ہے ادھوری الفت کا راز ہے یہ کہ سب ادھورے ہی رہ گئے ہیں یہ زرد پتوں میں آدھا سگریٹ نہیں ہے مصرعہ پڑا ہوا ہے بچھڑنے والے کی چارپائی سے میری نظریں لپٹ گئی ہیں کسے خبر ہے کہ چارپائی پہ ایک صدمہ پڑا ہوا ہے تمہاری جانب میں چلتے چلتے اب اس دوراہے پہ آ کھڑا ہوں جہاں پہ آنے نہ آنے کے بیچ ایک عرصہ پڑا ہوا ہے

udaas kamre ke kone kone mein jaise ghussa paDaa huaa hai

غزل · Ghazal

ہوا بدن میں کسی یاد کی چلی جب بھی مجھے لگا مجھے چھو کر گزر گیا ہے کوئی میں ایک برگ تھا اور پیڑ سے جھڑا ہوا تھا یہاں وہاں کی ہوا مجھ کو لے کے اڑتی پھری گئے ہوؤں نے پلٹ کر کبھی نہیں دیکھا یہ جانتے ہوئے بھی دل نے ضد نہیں چھوڑی ادھر ادھر کی سنی تو خیال بٹنے لگا ذرا سا شور تھما تو فضا بدلنے لگی عجیب حالت دل ہے کہ کچھ خبر ہی نہیں میں دل گرفتہ نہیں ہوں تو کیوں یہ حبس دمی

havaa badan mein kisi yaad ki chali jab bhi

Similar Poets