SHAWORDS
Naeem Sahil

Naeem Sahil

Naeem Sahil

Naeem Sahil

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

زمیں پہ جب کبھی جلوے نظر کے دیکھتے ہیں ہم آسمان سے اکثر اتر کے دیکھتے ہیں بلا کا حسن ہے اس کی سبک اداؤں میں جو بے نیاز ہیں وہ بھی ٹھہر کے دیکھتے ہیں یہ حوصلہ ہے ہمارا کہ بال و پر اپنے اڑان بھرنے سے پہلے کتر کے دیکھتے ہیں ضرور دل میں کوئی خواہش سفر ہوگی وہ بار بار ہمیں کیوں سنور کے دیکھتے ہیں انہی کو ملتی ہے ہر گام پہ نئی منزل تمام عمر جو امکاں سفر کے دیکھتے ہیں وہ ناتواں ہو یا غازی یا اہل ثروت ہو تمام لوگ تمہیں آہ بھر کے دیکھتے ہیں جسے زمانہ سمجھتا ہے پر خطر ساحلؔ ہم ایسی راہ سے اکثر گزر کے دیکھتے ہیں

zamin pe jab kabhi jalve nazar ke dekhte hain

غزل · Ghazal

عشق جب مانگے ہے بس سادہ دلی مانگے ہے حسن بے ساختہ آشفتہ سری مانگے ہے آ گیا راس زمانے کو جب انداز مرا آئینہ بھی ہنر شیشہ گری مانگے ہیں سب کی قسمت میں کہاں ہوتا ہے خوش رنگ حیات فلسفہ عشق کا لمحوں سے صدی مانگے ہے درد اٹھتا ہے تو اک پل میں تڑپ جاتا ہے سوختہ دل مرا صندل کی نمی مانگے ہے جان جاؤ گے تو حیرانی تمہیں بھی ہوگی کون کس کس سے یہاں تشنہ لبی مانگے ہے کہنی پڑتی ہے غزل حسب مراتب اس کے قافیہ روز نیا حرف روی مانگے ہے گمرہی کیوں نہ بڑھے حد سے زیادہ ساحلؔ جو بھی نا اہل ہے وہ راہبری مانگے ہے

'ishq jab maange hai bas saada-dili maange hai

غزل · Ghazal

جب کبھی اپنی تمناؤں کا گلشن دیکھا میں نے دل سوز زمانے کو بھی دشمن دیکھا اپنے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے جب بھی میں نے ہر بار پرانا کوئی درپن دیکھا اس قدر کھویا ہوا تھا میں تری یادوں میں صحرا دیکھا نہ کبھی راہ میں گلشن دیکھا کیفیت دل کی بیاں کرتی تھیں آنکھیں سب کی میں نے ہر شخص کا بھیگا ہوا دامن دیکھا دشمنی میں بھی محبت سے وہ پیش آتا ہے اس کے جیسا نہ کوئی دوست نہ دشمن دیکھا ہو گیا اس کی میں عظمت کا جہاں میں قائل جب کہیں بھی کسی دانا کو فروتن دیکھا تیرا شیدائی ہوں میں روز ازل سے ساحلؔ زندگی تجھ کو ہر اک دور میں احسن دیکھا

jab kabhi apni tamannaaon kaa gulshan dekhaa

غزل · Ghazal

مٹ گیا ہوتا مگر زندہ ہوں تدبیر کے ساتھ روز ہوتا ہے تماشہ مری تقدیر کے ساتھ کیا ضروری ہے کئی خواب سنہرے دیکھوں عمر کٹ جاتی ہے اک خواب کی تعبیر کے ساتھ چند غزلیں مری لوگوں کی زباں پر بھی تھیں وہ مجھے کیسے مٹاتا مری تحریر کے ساتھ وقت انسان کے حالات بدل دیتا ہے کب تلک قید رہے گا کوئی زنجیر کے ساتھ چند لمحوں کے لئے روز میں جی لیتا ہوں جینا مشکل بھی نہیں عزت و توقیر کے ساتھ کیوں نہ ہو آپ کا چرچا یہاں محفل محفل آپ چھپتے ہیں رسالوں میں بھی تصویر کے ساتھ کامیابی تری قسمت میں لکھی ہے ساحلؔ دو نشانے ہیں ترے ذہن میں اک تیر کے ساتھ

miT gayaa hotaa magar zinda huun tadbir ke saath

غزل · Ghazal

حسرت دیدۂ شب تاب لئے بیٹھے ہیں اپنی آنکھوں میں ہم اک خواب لئے بیٹھے ہیں شہر ہستی میں کچھ ایسے بھی ہمیں لوگ ملے اپنی فطرت میں جو گرداب لئے بیٹھے ہیں ہم نے خود کو بھی کھنگالا ہے سمندر کی طرح ہاتھ میں گوہر نایاب لئے بیٹھے ہیں مجھ پہ اللہ کی رحمت ہے جو زندہ ہوں میں ورنہ خنجر مرے احباب لئے بیٹھے ہیں حق بیانی سے جو ڈرتے ہیں سر محفل وہ ذہن میں منبر و محراب لئے بیٹھے ہیں زعم یہ ہے کہ انہیں کو ہی ملے گی جنت جو تباہی کے ہر اسباب لئے بیٹھے ہیں درد کیا سمجھیں گے ساحلؔ وہ سیہ راتوں کا اپنے پہلو میں جو مہتاب لئے بیٹھے ہیں

hasrat-e-dida-e-shab-taab liye baiThe hain

غزل · Ghazal

دنیا کہتی ہے کیا ان سنا کیجئے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجئے آج کل ہر سفر مختصر ہے بہت جلد از جلد ہر فیصلہ کیجئے آپ کے شہر میں ایک مدت سے ہیں ہم ہیں کس حال میں کچھ پتہ کیجئے زندگی کا سفر تنہا کٹتا نہیں عشق ہے گر خطا تو خطا کیجئے یہ سنا ہے کہ سنتا ہے رب آپ کی میرے حق میں کبھی تو دعا کیجئے درد اچھا نہیں عمر بھر کے لئے مندمل زخم کو مت ہرا کیجئے آپ ساحلؔ کی باتوں میں مت آئیے دل جو کہتا ہے اس کو سنا کیجئے

duniyaa kahti hai kyaa an-sunaa kijiye

Similar Poets