SHAWORDS
Naeem Waqif

Naeem Waqif

Naeem Waqif

Naeem Waqif

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ham se ye qatl ke manzar nahin dekhe jaate

ہم سے یہ قتل کے منظر نہیں دیکھے جاتے شاہراہوں پہ کٹے سر نہیں دیکھے جاتے جب کفن باندھ کے نکلے ہو شہادت کے لئے پھر پلٹ کر تو کبھی گھر نہیں دیکھے جاتے فکر کا کاش دریچہ ہی کوئی کھل جائے ذہن انسانوں کے بنجر نہیں دیکھے جاتے ہم نے ہنستے ہوئے پھولوں میں گزاری ہے حیات ہم سے بربادی کے منظر نہیں دیکھے جاتے دیکھ لینے سے بھی ہوتی ہے تسلی دل کو آئنے ہاتھ سے چھو کر نہیں دیکھے جاتے غم کی راہوں سے بھی ہنستے ہوئے گزرو واقفؔ راہ میں خار یا پتھر نہیں دیکھے جاتے

غزل · Ghazal

ye fikr-o-fan ke fitne log ab aksar uThaate hain

یہ فکر و فن کے فتنے لوگ اب اکثر اٹھاتے ہیں اجالے میں تو سبحہ رات میں ساغر اٹھاتے ہیں نہیں ہے طاقت پرواز لیکن حوصلہ تو ہے نگاہیں آسماں پہ رکھ کے بال و پر اٹھاتے ہیں یہ مانا ہم نے صبر و ضبط کے عادی ہیں ہم لیکن ستم حد سے گزر جائے تو پھر خنجر اٹھاتے ہیں کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے وہ اس دنیائے فانی میں جو اپنا ہر قدم مولا کی مرضی پر اٹھاتے ہیں ہوا ہے قتل مفلس کے دل ارماں کا دنیا میں تمنائیں تھی پھولوں کی مگر پتھر اٹھاتے ہیں زمانے کا چلن ہے اس طرح بدلا ہوا واقفؔ جھکا کے سر جو چلتے تھے وہی اب سر اٹھاتے ہیں

غزل · Ghazal

haivaaniyat kaa zahr dilon mein utar gayaa

حیوانیت کا زہر دلوں میں اتر گیا بستی سے اپنی کون سا موسم گزر گیا اونچے مکان والے جو تھے صاف بچ گئے الزام قتل سارا غریبوں کے سر گیا دیدار ہو رہا تھا مجھے ان کا خواب میں آنکھیں کھلیں تو خوش نما منظر بکھر گیا حیرت زدہ ہیں لوگ مرا عزم دیکھ کر میں پیچ و خم کی راہ پہ چل کر سنور گیا ذاتیں تمام فرقہ پرستی میں بٹ گئیں واقفؔ تلاش کرتا ہے انساں کدھر گیا

Similar Poets