SHAWORDS
Nafees Warsi

Nafees Warsi

Nafees Warsi

Nafees Warsi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

محبت کے جو پیروکار ہوں گے ہمارے جیسے بس دو چار ہوں گے ہوا پانی پرندے پیڑ پودے کہانی کے نئے کردار ہوں گے ہمیں آتی کہاں ہے چاپلوسی بھلا ہم صاحب دستار ہوں گے نئے کچھ فلسفی پیدا ہوئے ہیں پرانے فلسفے مسمار ہوں گے نہیں ہے کوئی جس کے آگے پیچھے بہت سے اس کے دعویدار ہوں گے اب ایٹم بم نہیں کیڑے مکوڑے ہماری جنگ کے ہتھیار ہوں گے نفیسؔ اپنے مقدر میں لکھا تھا کسی دن راندۂ دربار ہوں گے

mohabbat ke jo pairokaar honge

غزل · Ghazal

شوق ان کو ہے باغبانی کا قتل کرتے ہیں رات رانی کا سارے مزدور لوٹ آئے ہیں حال اچھا ہے راجدھانی کا سب کے لہجے میں چڑچڑاہٹ ہے ٹیسٹ اچھا نہیں ہے پانی کا لوگ جس کو بیان کرتے ہیں میں ہوں کردار اس کہانی کا وقت اپنی جگہ پہ ٹھہرا ہے رنگ بدلا ہے زندگانی کا رونق زیست سے جی اوب گیا شعر کوئی سناؤ فانیؔ کا شوق پالو نفیسؔ اس کا تم لطف بالا ہے نعت خوانی کا

shauq un ko hai baaghbaani kaa

غزل · Ghazal

سنی ہے تم نے کبھی گفتگو پرندوں کی چمن سے ہے جڑی ہر جستجو پرندوں کی کٹے درخت کے نزدیک بیٹھے ہیں مایوس کسی نے لوٹ لی ہے آبرو پرندوں کی ملے جو وقت کبھی بات کرنا بچوں سے زباں یہ بولتے ہیں ہو بہو پرندوں کی کسی بھی پیڑ سے پوچھو تمہیں بتائے گا ہر ایک شاخ کو ہے آرزو پرندوں کی کوئی پرند ادھر اب نظر نہیں آتا ٹنگی ہیں لاشیں یہاں کو بکو پرندوں کی کھلی فضا میں یہ پرواز چاہتے ہیں بس نفیسؔ اور نہیں آرزو پرندوں کی

suni hai tum ne kabhi guftugu parindon ki

غزل · Ghazal

پیار کے بدلے پیار دیں گے مجھے میرے اپنے ہی مار دیں گے مجھے شوق کس کو ہے بوجھ ڈھونے کا آگے جا کر اتار دیں گے مجھے کام جن کے نہیں میں آؤں گا گالیاں وہ ہزار دیں گے مجھے ایک مدت سے جیب خالی ہے لوگ کب تک ادھار دیں گے مجھے میں بھی ہو جاؤں گا کسی قابل طنز ان کے نکھار دیں گے مجھے ایک مدت سے ان کا نوکر ہوں جانے کب وہ پگار دیں گے مجھے دوست سب مہربان ہیں مجھ پر اپنا مارا شکار دیں گے مجھے

pyaar ke badle pyaar deinge mujhe

غزل · Ghazal

عشق کی پہلے اسٹڈی کرنا بعد میں یار شاعری کرنا چاند سمجھو چراغ یا جگنو کام میرا ہے روشنی کرنا تم کو دکھ جائے کوئی تم سا جب دوڑ کر اس سے دوستی کرنا دل دہلتے ہیں آگ میں دن رات کتنا مشکل ہے دشمنی کرنا بے وفا شخص ہاتھ ملتا ہے چھوڑ دے یار رہزنی کرنا موسمی پھل کے مثل ہے لڑکی پیار بھی اس سے موسمی کرنا آپ کے ہاتھ کا یہ سودا ہے بات بھی اس سے آپ ہی کرنا صرف اتنا ہے کام اس کا نفیسؔ میرے کمرے میں روشنی کرنا

ishq ki pahle study karnaa

Similar Poets