
Naheed Azmi
Naheed Azmi
Naheed Azmi
Ghazalغزل
سرد مہر لوگوں سے شوخیاں نہیں رکھنا رابطے بڑھائیں تو تلخیاں نہیں رکھنا ہر طرف زمانے کے کان کار فرما ہیں آئنے کی مٹھی میں ہچکیاں نہیں رکھنا کون کتنا مخلص ہے وقت خود بتا دے گا دوست اور دشمن کی گنتیاں نہیں رکھنا اس سفر سے آکر پھر اک سفر سلامت ہے آسمان سے کہہ دو سختیاں نہیں رکھنا گھونٹ گھونٹ پی لینا ہجر کو محبت میں عشق کی عدالت میں پیشیاں نہیں رکھنا جس سے بھی کہیں ملنا مسکرا کے مل لینا ذات کے جزیرے میں تلخیاں نہیں رکھنا جس کے سرد لہجے میں سلوٹیں نمایاں ہوں دیکھو ایسے قدموں میں پگڑیاں نہیں رکھنا
sard-mehr logon se shokhiyaan nahin rakhnaa
جدائی ہی ضرورت ہو گئی ہے سنو تلخی کے اک دو گھونٹ پی کر مجھے جینے سے رغبت ہو گئی ہے بہت رنگین تھا تیرا فسانہ اب اس میں اور جدت ہو گئی ہے ہمیں معتوب کر کے رکھ دیا ہے بھلا عورت علامت ہو گئی ہے بھنور میں جب سے پاؤں رکھ دئے ہیں ہمیں گردش کی عادت ہو گئی ہے سمندر تو نہیں تھی زندگانی جسے کشتی کی حاجت ہو گئی ہے مرا دل بانجھ ہوتا جا رہا ہے تمہاری یاد رخصت ہو گئی ہے ہوا نے زخم سی کر رکھ دئے جب دئے کو کیوں شکایت ہو گئی ہے چلو دنیا کو اب آزاد کر دیں مکمل اس کی عدت ہو گئی ہے
judaai hi zarurat ho gai hai
اندر سے دل چاٹ رہی جو لہجے کی مغروری تھی اچھی طرح تم جان گئے ہو عشق مری مجبوری تھی ہم نے تم سے عشق کیا اور عشق بھی پوری شدت سے یہ آدھا اظہار ہمارا لفظوں کی معذوری تھی چار دنوں میں سات جنم کو جینے والے سنتا جا سات جنم کا ساتھ ہمارا چار دنوں کی دوری تھی بھول آئی ہوں جتنے لمحے اے شب ہجراں واپس دے وصل کی خواہش کرنا میری سچ میں اک مجبوری تھی اپنا ہونا چھوڑ آئی ہوں میں اس کے دروازے پر اتنی بات بتا کر پلٹی جتنی بات ضروری تھی
andar se dil chaaT rahi jo lahje ki maghruri thi
اس نے جو عشق وشق کے ہجے الگ نہیں کیے ہم نے بھی درد سہہ لیے صدمے الگ نہیں کیے میرے اور اس کے درمیاں رشتہ وبال جان تھا دل کو سرہانے رکھ دیا کمرے الگ نہیں کیے اس نے کسی کی چاہ میں چاہ کو میری ڈس لیا سوچا تو میں نے بارہا رستے الگ نہیں کیے گھر کے ہر اک مقام پر سہمی کھڑی تھیں الفتیں کمروں سے اس کی یاد کے جالے الگ نہیں کیے دونوں ہم اک کلاس کے لڑتے تھے زور و شور سے روٹھنا اور بات تھی بستے الگ نہیں کیے دل سے اسے لگا لیا ایسا سکوں ملا کہ بس روتی رہی میں دیر تک کاندھے الگ نہیں کیے بیٹوں نے رخ بدل لیا چھوڑ کے اس کو چل دئے باپ نے جسم ہار کے رشتے الگ نہیں کیے لہجوں کی ساری برہمی سیتی رہی تمام عمر میں نے کتاب زیست سے بخیے الگ نہیں کیے
us ne jo ishq-vishq ke hijje alag nahin kiye
شہر دل جمال کا کس نے یہ حال کر دیا آنکھوں میں تیرگی بھری ہنسنا محال کر دیا تم سے ہمارا درد کا رشتہ ہی جب نہیں رہا کیسے کہیں کہ درد نے کیسا نڈھال کر دیا لب پہ شکایتیں نہ تھیں جی میں بہت ملال تھا اس پہ تمہارے ذکر نے آنکھوں کو لال کر دیا پوروں پہ آسمان کو رکھنا بہت محال تھا میں نے جنون شوق میں یہ بھی کمال کر دیا اس کا کہا تو سچ نہ تھا میرا سنا بھی سچ نہ تھا لیکن فصیل وقت نے منظر اجال کر دیا وہ درد جو تھا آشنا اس کو کہاں سے لائیں اب اس کے بغیر زیست نے جینا وبال کر دیا مشکل بہت تھا پوچھنا کیسے مجھے بھلا دیا جب تیرے روبرو ہوئی فوراً سوال کر دیا
shahr-e-dil-e-jamaal kaa kis ne ye haal kar diyaa
میری غزلوں کا ہر قافیہ مسترد آپ ہوں سامنے آئنہ مسترد جان بچ جائے تو حادثہ مسترد سر پٹختی ہوا کا نشہ مسترد شاعری واعری دیکھتا کون ہے حسن جب تک نہ ہو شاعرہ مسترد تو مرے ساتھ ہو اور دنیا بھی ہو اس مثلث کا اک زاویہ مسترد زندگی لاکھ قدموں میں پڑتی رہی کر دیا اس کا ہر فیصلہ مسترد تجھ پہ میرا یقیں اس قدر بے اٹل ذہن و دل کا ہر اک وسوسہ مسترد ہم ترے غم کی تلخی سے ہیں آشنا اب نیا کوئی بھی ذائقہ مسترد رب اکبر کا ہر فیصلہ دل کشا جا نجومی ترا زائچہ مسترد
meri ghazlon kaa har qaafiya mustarad





