Nahid Akhtar
Nahid Akhtar
Nahid Akhtar
Ghazalغزل
hai khaar khaar jahaan narm narm khu rakhiyo
ہے خار خار جہاں نرم نرم خو رکھیو ہتھیلیوں میں گلابوں کے رنگ و بو رکھیو گنوا نہ دیجیو سب شہر دل نگاراں میں بچا کے تھوڑی سی صہبائے آرزو رکھیو وہ لوگ جو ہیں تعصب کی تیرگی کے اسیر جلا کے دل کا دیا ان کے روبرو رکھیو پروں سے پیٹتی سر کو چلی گئی بلبل الٰہی میرے چمن کی تو آبرو رکھیو کہ ریزہ ریزہ بکھر جائے گی تمہاری ذات زمانہ سنگ ہے نہ آئنے کی خو رکھیو جو کہہ رہی ہیں غزل رنگ میرؔ میں ناہیدؔ تو اس کے رتبے کی للہ آبرو رکھیو
raste saare bhuul chuki huun
رستے سارے بھول چکی ہوں اپنی ذات کی بند گلی ہوں جو ہے دل میں وہ ہے زباں پر آئینے کی طرح کھری ہوں دل جو چاہے عقل نہ مانے میں بھی کس چکر میں پڑی ہوں پتھر برساتے موسم میں شیشے سے سر ڈھک کے چلی ہوں اس پاگل ناہیدؔ کے ہاتھوں کہاں کہاں نہ خوار ہوئی ہوں





