Naim Rashid
Naim Rashid
Naim Rashid
Ghazalغزل
پر سکون موجوں میں اضطراب آتا ہے ظلم جب بھی بڑھتا ہے انقلاب آتا ہے زلزلے کی لہروں نے لکھ دیا زمینوں پر بے عمل قبیلوں پر یوں عذاب آتا ہے قوتیں مریضانہ صورتیں ضعیفانہ مفلسوں کے بچوں پر کب شباب آتا ہے میں نے پھول برسائے اس نے سنگ باری کی کیا سوال تھا میرا کیا جواب آتا ہے ظلم کے اندھیرے جب حد سے بڑھنے لگتے ہیں تیرگی مٹانے کو آفتاب آتا ہے سب ہے اس کے قبضے میں جس کو چاہتا ہے وہ رزق اس کے حصے میں بے حساب آتا ہے
pur-sukun maujon mein iztiraab aataa hai
برق کر رہی ہے پھر کوششیں جلانے کی اے خدا حفاظت کر میرے آشیانے کی کھو گئے ہیں جو لمحے بھیڑ میں زمانے کی جانے کیوں امیدیں ہیں ان کے لوٹ آنے کی خرمن محبت ہی خاک ہو گیا اپنا ہم نے یہ سزا پائی اک دیا جلانے کی دل کا کرب پلکوں پر جھلملانے لگتا ہے کوششیں میں کرتا ہوں جب بھی مسکرانے کی جو سمجھ نہیں پاتے وقت کے اشاروں کو ان کو روند دیتی ہیں گردشیں زمانے کی اے نعیمؔ دنیا سے اب کنارہ کش ہو جا فکر کچھ تو کر ناداں آخری ٹھکانے کی
barq kar rahi hai phir koshishein jalaane ki





