Najma Azeez
ہم اٹھے آواز حق جب بھی اٹھانے کے لئے نا پسندیدہ ہوئے دنیا زمانے کے لئے سختیاں غم کی مصر ہم کو رلانے کے لئے اور ہم مجبور و بے بس مسکرانے کے لئے وحشتیں ساری سمٹ کر آ گئیں صحراؤں سے ہم جو بیٹھے آج گھر اپنا سجانے کے لئے در بدر کیوں ناصیہ فرسائی کی زحمت کریں مستقل جب ایک گھر ہے سر جھکانے کے لئے آپ کی فطرت میں دل جوئی نہیں تو نہ سہی آ تو سکتے ہیں ہمارا دل دکھانے کے لئے اپنا ماضی یاد رکھنا آج بھی نجمہ عزیزؔ ہے ضروری اپنا مستقبل بنانے کے لئے
ham uThe aavaaz-e-haq jab bhi uThaane ke liye