Najma Jafari
Najma Jafari
Najma Jafari
Ghazalغزل
کیوں اٹھی رخ سے نقاب خوب سمجھتے ہیں ہم کیوں خجل ہے آفتاب خوب سمجھتے ہیں ہم آتشیں رخ سے حضور پھوٹ رہی ہے کرن گرمی روز حساب خوب سمجھتے ہیں ہم یہ جہان رنگ و بو آپ کا پردہ بنے کون ہے زیر نقاب خوب سمجھتے ہیں ہم رات وہ رشک قمر محو خود آرائی تھا چاند تھا کیوں آب آب خوب سمجھتے ہیں ہم
kyon uThi rukh se naqaab khuub samajhte hain ham
حرص و ہوس نے ڈھونڈے ہیں عنواں نئے نئے دل بستگی کے ہوتے ہیں ساماں نئے نئے تہذیب بھی بدل گئی بدلی معاشرت فیشن کے روز ہوتے ہیں ساماں نئے نئے بزم سخن وراں میں بھی ہوتی ہیں جدتیں اہل سخن نئے ہیں سخنداں نئے نئے منزل بہت قریب ہے عمر رواں کی اب دل پھر بھی کرتا رہتا ہے ارماں نئے نئے ہم جیسے کم نگاہوں کو جائے پناہ نہیں صحرا نئے نئے ہیں گلستاں نئے نئے نجمہؔ بھلا دو گزرے زمانے کی یاد کو لیتی ہے موڑ گردش دوراں نئے نئے
hirs-o-havas ne DhunDe hain unvaan nae-nae
اے محو ناز میرا جہاں اک نظر تو دیکھ ہوتی ہے کس طرح شب غم کی سحر تو دیکھ یہ کیا کہا کہ کوئی نہیں قدرداں مرا تجھ کو قسم ہے میری طرف اک نظر تو دیکھ چھائی ہے بزم حسن میں اب بھی فسردگی پہنچا کہاں تلک غم دل کا اثر تو دیکھ منزل کا ہوش ہے نہ ہے کچھ راہ کی خبر کتنا عجیب ہے یہ ہمارا سفر تو دیکھ الجھا ہوا ہے زلف میں عارض پہ کر نظر دیکھا کیا ہے شام ذرا اب سحر تو دیکھ اے ہم نفس سحر سے مرا دل ہے بے قرار لائی صبا کسی کی ہو شاید خبر تو دیکھ مانا کہ راستہ ہے بہت پر خطر مگر نجمہؔ نہ ہو اداس سوئے راہبر تو دیکھ
ai mahv-e-naaz meraa jahaan ik nazar to dekh
مجھے بھی سوز محبت کی داد مل جاتی جو آپ سامنے آ کر مجھے مٹا دیتے کرم پہ آپ کو مائل اگر کبھی پاتے عدو کے نام سے ہم حال دل سنا دیتے سمجھتا میں کہ خلش کام کر گئی دل کی تڑپتا دیکھ کے مجھ کو جو مسکرا دیتے مجھے سہارے کی طاقت تو بخش دیتے آپ نگاہ ناز سے پھر بجلیاں گرا دیتے بڑی امیدوں سے آئے ہیں آپ کے در پر حضور آج تو دست کرم بڑھا دیتے ہم ان سے مہر و وفا کے امیدوار نہیں مگر نہ دل سے ہمیں اس طرح بھلا دیتے یہ مشت خاک بھی گردن فراز ہو جاتی غریب نجمہؔ کو قدموں میں گر جگہ دیتے
mujhe bhi soz-e-mohabbat ki daad mil jaati
قانون تو قدرت کا ہے وہی انسان بدلتے رہتے ہیں یہ حرص و ہوس کے دیوانے ہر آن بدلتے رہتے ہیں پہلے تو خدا کے بندے تھے اب پیسے کے سب یہ بندے ہیں موسم کی طرح سے دنیا میں ایمان بدلتے رہتے ہیں آنکھیں بدلیں پھر دل بدلے تہذیب و تمدن بھی بدلے انجام کہاں ہوگا اس کے امکان بدلتے رہتے ہیں وعدہ تھا وفا کرنے کا کبھی اب جور و جفا کی کھائی قسم اس پر بھی کبھی پچھتاؤ گے پیمان بدلتے رہتے ہیں پہلے تو تمہیں کو چاہا تھا اب موت کو بھی یہ چاہنے لگا دستور نرالے ہیں دل کے ارمان بدلتے رہتے ہیں کل ناز و ادا کے تیر چلے ہے آج تغافل کی برچھی اس کو بھی کرم سمجھو نجمہؔ احسان بدلتے رہتے ہیں
qaanun to qudrat kaa hai vahi insaan badalte rahte hain
صبح ہے پردہ ترے چہرے سے ہٹ جانے کا نام شام ہے گیسو ترے رخ پر بکھر جانے کا نام جس نے دیکھا اک نظر سرشار و بے خود ہو گیا چشم میگوں رکھ دیا لبریز پیمانے کا نام تیرے آنے سے بہار آئی ہے بزم دہر میں اور قیامت ہے ترے آ کر چلے جانے کا نام زندگی ہے اصل میں ملنے کی پیہم کشمکش موت ہے اس مرکز اصلی میں مل جانے کا نام آدمی اس جسم کے مٹنے سے مٹ سکتا نہیں موت آنا ہے فقط محفل بدل جانے کا نام مطمئن انسان اس دنیا میں ہو سکتا نہیں مطمئن ہونا ہے کچھ دن کو بہل جانے کا نام ایک تبسم کے عوض رونا پڑا پہروں مجھے اب تو لیتی ہی نہیں لب پر ہنسی آنے کا نام ایک جام بے خودی نجمہؔ کو ساقی بخش دے تا ابد روشن رہے گا تیرے میخانے کا نام
subh hai parda tire chehre se haT jaane kaa naam





