
Naman Gour
Naman Gour
Naman Gour
Ghazalغزل
yuun hi logon ke dil jalaa dein kyaa
یوں ہی لوگوں کے دل جلا دیں کیا آپ کہیے تو مسکرا دیں کیا آپ کی ہو اگر اجازت تو دل کی باتیں زباں پہ لا دیں کیا درد دیتی ہے دنیا اور اس پر پوچھتی ہے کہ اب دوا دیں کیا برتھ ڈے گفٹ کیا اسے دیں وہ خوبصورت ہے آئنہ دیں کیا ہم تو ہارے ہیں عشق کے لڑکو تم نئے ہو تو مشورہ دیں کیا عاشقی کر کے کیا ملا ہم کو شاعری کر کے سب بتا دیں کیا
apni maujudgi kaa ye to asar aataa hai
اپنی موجودگی کا یہ تو اثر آتا ہے خوف دشمن کی نگاہوں میں نظر آتا ہے ڈوبتا دیکھ مجھے چھوڑ کے جانے والو مجھ کو بھنوروں سے نکلنے کا ہنر آتا ہے پھر تو باتوں میں جنوں اور بھی بڑھ جاتا ہے پہلا میسج تری جانب سے اگر آتا ہے آپ آیا نہ کرو چھت پہ مرے جیسوں کی چال تھم جاتی ہے جب آپ کا گھر آتا ہے زندگی جیسے مری کوئی سفر نامہ ہو ختم ہوتے ہی سفر پھر سے سفر آتا ہے
hamein bataao to sarkaar kyon nahin karte
ہمیں بتاؤ تو سرکار کیوں نہیں کرتے ہمارے جتنا ہمیں پیار کیوں نہیں کرتے ہمیں پتہ ہے ہمیں پیار تم بھی کرتے ہو مگر پتہ نہیں اظہار کیوں نہیں کرتے وفا نبھا رہے ہو اپنے گھر کی چوکھٹ سے ہماری طرح حدیں پار کیوں نہیں کرتے یہاں بھی فائدہ نقصان دیکھتے ہو تو تم عشق چھوڑ کے بیوپار کیوں نہیں کرتے گھما پھرا رہے ہو کیوں تم اتنا باتوں کو نہیں ہے عشق تو انکار کیوں نہیں کرتے تمہیں پتہ ہے کہ انجام عشق کیا ہوگا تو خود کو پہلے سے تیار کیوں نہیں کرتے یہ عشق وشق تو نادان لوگ کرتے ہیں ہمیں پتہ ہے سمجھدار کیوں نہیں کرتے بجے جو دس تو ہمیں بائے بول دیتے ہو ہمیں سے بات لگاتار کیوں نہیں کرتے
vaise tumhaari baat to bilkul buri nahin
ویسے تمہاری بات تو بالکل بری نہیں لیکن وہ بات تم نے سلیقے سے کی نہیں کردار میں تو کوئی بھی تیرے کمی نہیں لیکن مرے مزاج کا تو آدمی نہیں اچھا ہو یا ہو وقت برا سب گزر گیا دامن میں پھر بھی داغ کوئی آج بھی نہیں جس کو ہوا بھی آندھیوں کی اور سے ملے پھونکیں بجھا سکیں گی کیا اس کو کبھی نہیں





