SHAWORDS
Naqi Naqvi

Naqi Naqvi

Naqi Naqvi

Naqi Naqvi

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

میں باغ تھا بہار نے ویراں کیا مجھے اس عشق نے تو کافی پریشاں کیا مجھے میں ایسی نہر ہوں جہاں آتے تھے تشنہ لب پھر اپنی پیاس نے ہی بیاباں کیا مجھے انمول اتنا ہوں کہ خریدا نہیں گیا پھر خود دکان دار نے ارزاں کیا مجھے میں اس میں خود کو دیکھتا ہوں مثل آئنہ اس نے کچھ ایسے آنکھوں میں پنہاں کیا مجھے کرنی ہے جنگ عشق کے میدان میں اسے پردے کے پیچھے خود ہے نمایاں کیا مجھے میں اس کو جانتا ہوں کہ وہ ہے فریب دہ لیکن تمھارے سچ نے بھی حیراں کیا مجھے

main baagh thaa bahaar ne viraan kiyaa mujhe

غزل · Ghazal

سب کو میری طرح نڈھال کرو عشق مشکل ہے اور محال کرو عشق بچپن سے سنتے آئے ہیں قائم اب بغض کی مثال کرو اس نے پوچھا تعارف الفت میں یہ بولا نیا سوال کرو میں تری دید کو ترستا ہوں خواب میں ہی سہی وصال کرو میں اک آسان آدمی ہوں نقیؔ میرا جینا بہت وبال کرو

sab ko meri tarah niDhaal karo

غزل · Ghazal

اس کا اک اک گزر نہیں بھولا آج تک وہ سفر نہیں بھولا میرا خود پر بھی اختیار نہیں میں تجھے چاہ کر نہیں بھولا اپنا فن تو بھی کھو نہیں پایا میں بھی اپنا ہنر نہیں بھولا ایک پل میں بھلا دیا اس نے میں جسے عمر بھر نہیں بھولا میری جانب نہ آنا پھر سے کہ میں تیرے جانے کا ڈر نہیں بھولا مجھ کو ماں کی دعائیں یاد نہیں لیکن ان کا اثر نہیں بھولا یہ محبت نہیں تو کیا ہے نقیؔ دور رہ کر اگر نہیں بھولا

us kaa ik ik guzar nahin bhulaa

غزل · Ghazal

تیر بھی خود کو مار لیتا ہوں میں ہی خود کو سنوار لیتا ہوں دوسروں کا ادھار دینا ہے دوسروں سے ادھار لیتا ہوں موت جب تک مجھے نہیں آتی زندگی ہی گزار لیتا ہوں رزق الفت نہیں کھلا مجھ کو پیٹ بھر کے ڈکار لیتا ہوں جیتنا چاہتا ہوں میں سب سے اس لئے سب سے ہار لیتا ہوں اس کو واپس بھی پھر نہیں دیتا جب کسی سے میں پیار لیتا ہوں روز الفت کے آسماں سے نقیؔ ایک تارا اتار لیتا ہوں

tiir bhi khud ko maar letaa huun

غزل · Ghazal

روٹھ جانے کا ہے غرور مجھے جبکہ حاصل نہیں عبور مجھے اک غزل اور جب لکھی میں نے رنج نے دے دیا سرور مجھے عشق کے آئینے پہ مار کے سنگ کر دیا اس نے چور چور مجھے جتنا آتا رہا مرے نزدیک مجھ سے کرتا رہا وہ دور مجھے اور پھر تو نے کر لیا اپنا ایک دن خود پہ تھا غرور مجھے ترے خورشید سے بھی بڑھ کر ہے میری قندیل کا یہ نور مجھے میں نے اس کو بھلا دیا دل سے اب وہ یاد آئے گا ضرور مجھے تیری آنکھوں میں کھو نہ جاؤں نقیؔ اس ادا سے تو تو نہ گھور مجھے

ruuTh jaane kaa hai ghurur mujhe

غزل · Ghazal

جو عدو میری جان کے نکلے میرے ہی خاندان کے نکلے وہ تو بن ہی گئے تھے اپنے وکیل ہم ہی کچے زبان کے نکلے پھر رہے ہیں وہ ہو کے خانہ بدوش وہ جو مالک مکان کے نکلے وہ بھی وہم و گمان کے نکلے ہم بھی وہم و گمان کے نکلے ان کے جانے سے مجھ کو خطرہ ہے وہ جبھی یاں سے جان کے نکلے اس کے بدلے تھے دیر سے تیور پر اچانک زمان کے نکلے کر گئے ہیں نشانہ اپنا خطا تیر دل کی کمان کے نکلے دل کی باتیں نقیؔ کی سن بھی لیں وہ بہت تیز کان کے نکلے

jo 'adu meri jaan ke nikle

Similar Poets