Narender Shahid
نکل کر تیرے کوچے سے فراز دار تک پہنچے ترے عاشق وفا کے آخری معیار تک پہنچے نہ جانے کتنے طوفان حوادث سے گزر کر ہم تمہارے دل کی دھڑکن تک تمہارے پیار تک پہنچے لبوں تک آ کے سو جاتے تھے دل کے سرمدی نغمے بڑی مشکل سے ہم بھی جرأت اظہار تک پہنچے جو دل تک ہی رہا رقص شرار غم تو کیا حاصل مزہ تب ہے اگر میرے لب اظہار تک پہنچے گلوں کی جستجو کرنے کو تو میں نے بھی کی لیکن مرے دست طلب جوش جنوں میں خار تک پہنچے ذرا سی جرأت بے باک سے ماحول بدلے گا سکوت شب تری پازیب کی جھنکار تک پہنچے جواب گردش ساغر کہاں سے لائے گی شاہدؔ سمجھ کر گردش دوراں کسی مے خوار تک پہنچے
nikal kar tere kuche se faraaz-e-daar tak pahunche