
Narendra Shikhar
Narendra Shikhar
Narendra Shikhar
Ghazalغزل
کیا کہیں تم سے ہماری شامیں رنگ پل پل میں بدلتی شامیں تو کبھی غور تو کرتا ہی نہیں دیکھ تنہائی سے لڑتی شامیں میرے کمرے سے بلا لو ان کو یاد آئیں نہ سلگتی شامیں یہ بڑے شہر کا آفس میرا کھا گیا کتنی مہکتی شامیں دیکھ ساگر میں سمایا سورج جان لے لیں گی پگھلتی شامیں دن تو امید میں کٹ جاتا ہے مجھ سے کٹتی نہیں ڈھلتی شامیں یار پاگل نہ بنا دیں مجھ کو تیری یادوں سے دہکتی شامیں ہم نے سڑکوں پہ بھٹکتی دیکھیں جام کے ساتھ بہکتی شامیں کوئی مے خانے سے لے بھی آؤ میرے پیالے میں اترتی شامیں کتنی تیزی میں نظر آتی ہیں زندگی تیری گزرتی شامیں
kyaa kahein tum se hamaari shaamein
روح بھی کھو گئی دل بدلتے رہے پھر بھی دنیا کے نقشے پہ چلتے رہے سچ کا سورج کہیں بھی ملا ہی نہیں جھوٹ کی روشنی میں ہی پلتے رہے اس کی رحمت جسے بھی دکھائی نہ دی وہ بھکاری بنے ہاتھ ملتے رہے جسم کی تھی ہوس جسم کی بھوک تھی ہم محبت محبت سے چھلتے رہے یہ بدن عطر سے تو مہکتا رہا من کے اندر سے چھالے نکلتے رہے کتنا مشکل ہے جذبات رکھنا یہاں یار ہنس ہنس کے دل کو مسلتے رہے اس کی دنیا تو اتنی بری بھی نہیں صرف انساں کو انسان چھلتے رہے بے بسی لائی مجھ کو بھی بازار میں خود کے پیروں سے خود کو کچلتے رہے کون دیکھے ہمیں کس نے دیکھا ہمیں ایسے جیتے رہے خود کو دلتے رہے
ruuh bhi kho gai dil badalte rahe
اس طرح یارو مجھے رونا نہیں تھا ہاں مگر پتھر کا بھی ہونا نہیں تھا قید کرنا تھا مجھے ہر ایک منظر جاگنا تھا یار اب سونا نہیں تھا یوں نبھانے کو نبھا سکتے تھے لیکن بوجھ رشتوں کا ہمیں ڈھونا نہیں تھا دل کو پڑھنے کا ہنر جو پا گیا ہو ایسے ساتھی کو تمہیں کھونا نہیں تھا کس قدر شدت لگا دی چاہنے میں شخص جو آخر ترا ہونا نہیں تھا تھے ہمیں انجام بھی معلوم سارے ایسے خوابوں کو ہمیں بونا نہیں تھا
is tarah yaaro mujhe ronaa nahin thaa
شب غم کا ستایا جا رہا ہے مسافر بے سہارا جا رہا ہے سبب کیا ہے ہماری ہچکیوں کا کہیں دل سے پکارا جا رہا ہے ہیں دن کی مشکلیں اپنی جگہ پر یہ دل راتوں سے ہارا جا رہا ہے کسی کو دیکھ کر ایسا لگا کل کوئی جیسے ہمارا جا رہا ہے سنورتی جا رہی ہو جیسے قسمت مجھے ایسے نہارا جا رہا ہے وہ اب اکتا گیا ہے زندگی سے مزہ اپنا بھی سارا جا رہا ہے
shab-e-gham kaa sataayaa jaa rahaa hai
شام تنہا کا یوں گزر جانا اک صدی روز یاد کر جانا چل مرے ساتھ آسمانوں پہ جب ترا من کرے اتر جانا دیکھی امید بھی سسکتی اور ہم نے دیکھا ہے اپنا مر جانا ساری دنیا کے بوجھ کو لے کر مسکراتے پتا کا گھر جانا زندگی مجھ میں مسکراتی تھی جان جاں پھر ترا اثر جانا بات گرنے سے کھو گئی عزت اس سے اچھا تھا اپنا سر جانا جب رگوں کا لہو بنے پانی زندہ رہنا نہیں تو مر جانا بے بسی گر نہیں تو کیا ہے یہ کھا کے ٹھوکر بھی اس کے در جانا نوکری زندگی کی کر لو جب من نہیں ہو شکھرؔ مگر جانا
shaam-e-tanhaa kaa yuun guzar jaanaa
وہ ایسے تکلف سے مل جل رہی ہے ابھی کم سے کم وہ نہیں کھل رہی ہے نہ وہ دور ہے اب نہ وہ باغ ہیں اب نہ غل ہی رہا وہ نہ بلبل رہی ہے نہ آنکھیں نہ باتیں نہ قاتل ادائیں دل و جاں کی دشمن یہ کاکل رہی ہے ترا کیا بگاڑا ہے میں نے زمانے یہ دنیا مٹانے پہ کیوں تل رہی ہے تمہیں ہے قسم میرے آنسو نہ روکو ابھی روح میری ذرا دھل رہی ہے
vo aise takalluf se mil-jul rahi hai





