
Naseem Ahmad Naseem
Naseem Ahmad Naseem
Naseem Ahmad Naseem
Ghazalغزل
vahin pe sach kaa mujhe tarjumaan honaa thaa
وہیں پہ سچ کا مجھے ترجمان ہونا تھا قدم قدم پہ جہاں امتحان ہونا تھا تمہاری یاد کو کب تک سجا کے رکھتا میں کبھی تو خالی یہ دل کا مکان ہونا تھا عجیب شوق تھا اس کو بھی حق نوائی کا گنوا کے جان بھی جگ میں مہان ہونا تھا میں اور حرص کیا کرتا لپک کے چھونے کی مجھے زمین اسے آسمان ہونا تھا ہوا کی حکم عدولی سے مجھ کو حاصل کیا مرے نصیب میں جب بادبان ہونا تھا
har ghaDi ek hi jaisaa kabhi sochaa na karo
ہر گھڑی ایک ہی جیسا کبھی سوچا نہ کرو وقت ہرجائی ہے تم اس پہ بھروسا نہ کرو وہ تو بادل ہے کہیں جا کے برس جائے گا اس قدر ٹوٹ کے اس شخص کو چاہا نہ کرو یہ بھی ممکن ہے کہ تم ہاتھ جلا لو اپنا میری ماضی کی کبھی راکھ کریدا نہ کرو لاکھ اپنے ہوں کسی پل بھی بدل جائیں گے ریت کے محل پہ اتنا بھی بھروسا نہ کرو چند کرنیں ہی ترے واسطے کافی ہیں نسیمؔ خاک ہو جاؤ گے سورج کی تمنا نہ کرو
milne mein mujh ko aap se kyaa ijtinaab thaa
ملنے میں مجھ کو آپ سے کیا اجتناب تھا پر کیا کریں کہ شہر کا موسم خراب تھا جب جا چکے تمام ہی رشتوں کے قافلے میں تھا تمہاری یاد کا تازہ گلاب تھا سب لوگ آ کے اپنی کہانی سنا گئے میں کچھ نہ کہہ سکا مجھے کتنا حجاب تھا دنیا کے سارے راز سے واقف تو تھا مگر وہ پڑھ سکا نہ مجھ کو میں ایسی کتاب تھا مٹھی میں اس کی بند تھیں میری ضرورتیں میں تھا محض سوال وہ میرا جواب تھا میں نے کہیں نسیمؔ کو دیکھا تھا راہ میں چہرہ تھا اس کا زرد تو حلیہ خراب تھا
paDh ke likh ke haalat kyaa ham ne ye banaa li hai
پڑھ کے لکھ کے حالت کیا ہم نے یہ بنا لی ہے ڈگریاں ہیں ہاتھوں میں اور جیب خالی ہے طرز بھی یہ کیا تم نے خوب ہی نکالی ہے روبرو قصیدے ہیں پیٹھ پیچھے گالی ہے جس کو سن کے دشمن بھی مجھ پہ رشک کرتے ہیں دوستوں سے میں نے وہ بات ہی چھپا لی ہے سچ بھی میں نہیں کہتا جھوٹ سے بھی بچتا ہوں راہ اک نئی میں نے بیچ سے نکالی ہے
karb aankhon se ayaan dil mein kasak baaqi hai
کرب آنکھوں سے عیاں دل میں کسک باقی ہے تیرے جانے کی خلش آج تلک باقی ہے اس کی خواہش کا شجر خشک نہیں ہو سکتا جس کی ہر شاخ تمنا میں لچک باقی ہے پھر کسی شام کے رخسار پہ رکھ دے گا وہ دن کے چہرے پہ جو تھوڑا سا نمک باقی ہے سینکڑوں بار نسیمؔ اس کو تو دیکھا ہے مگر پھر بھی لگتا ہے ابھی ایک جھلک باقی ہے
kahne ko pur-sukun magar makhmase mein huun
کہنے کو پر سکون مگر مخمصے میں ہوں برسوں سے میں خدایا عجب مرحلے میں ہوں منزل ہے میرے آگے میں منزل کے روبرو پھر بھی میں چل رہا ہوں ابھی راستے میں ہوں جھوٹی گواہیوں کی بدولت وہ بچ گیا سچ بولتا ہوا میں ابھی کٹگھرے میں ہوں سچ بات کہنا جب سے شروع میں نے کر دیا تب سے کھڑا میں جیسے کسی کربلے میں ہوں





