SHAWORDS
Naseem Akhtar

Naseem Akhtar

Naseem Akhtar

Naseem Akhtar

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

jahaan mein hoti hain logon ki haajatein kyaa kyaa

جہاں میں ہوتی ہیں لوگوں کی حاجتیں کیا کیا لکھی ہیں چہروں پہ ان کے عبارتیں کیا کیا نیا زمانہ ہے ہر موڑ سے سنبھل کے نکل کھڑی ہیں راہ میں عریاں ضرورتیں کیا کیا بڑے خلوص سے ہم اجنبی سے ملتے ہیں ضرورتوں کی ضرورت ہیں چاہتیں کیا کیا تمام رشتے دکھاوے کے رشتے لگتے ہیں دلوں میں گھول رہی ہیں حقارتیں کیا کیا طویل عمر گزاری ہے اور تنہا ہوں ملی ہیں اپنوں کی مجھ کو محبتیں کیا کیا فنا کی گرد سے بچنا نسیمؔ مشکل ہے بگڑتی دیکھی ہیں اجلی شباہتیں کیا کیا

غزل · Ghazal

uDti hui khabar suni saare jahaan mein

اڑتی ہوئی خبر سنی سارے جہان میں دشمن مرا چھپا ہے مرے ہی مکان میں وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مجھ کو خبر نہیں ہر بات ان کی ہوتی ہے میرے ہی دھیان میں ان کی نشانہ بازی کا اب دیکھیے کمال ان کا بھی تیر آ چکا میرے کمان میں ان کا گمان ہے کہ ہوں غافل خدا سے میں میں تو سدا رہی ہوں اسی کی امان میں تیری حدیث شوق تھی ہر ایک نے سنی تاثیر تھی عجب ترے حسن بیان میں دنیا میں ساری نعمتیں تیری ہیں اے نسیمؔ سب ذائقے خدا نے رکھے ہیں زنان میں

غزل · Ghazal

apne ahd-e-zavaal se nikli

اپنے عہد زوال سے نکلی ایک مچھلی کہ جال سے نکلی گم ہوئی مستقل اندھیروں میں کوئی صورت خیال سے نکلی آہ رونق جو تھی مرے گھر کی عرصۂ ماہ و سال سے نکلی پہلے اک آگ کا سمندر تھا برق میرے جلال سے نکلی ڈھل گئی عمر تو ہوا معلوم آنچ سی خد و خال سے نکلی فکر تم بھی کرو نسیمؔ اپنی تازگی عرض حال سے نکلی

غزل · Ghazal

likhi thi jo kahaani vo kahaani yaad aati hai

لکھی تھی جو کہانی وہ کہانی یاد آتی ہے تمہارے پیار کی مجھ کو نشانی یاد آتی ہے بہاروں کا سماں سا ہے بھرے گلشن میں دیکھو تو گلابوں کی وہ رت اکثر سہانی یاد آتی ہے کہی ہے جو غزل میں نے اسی کے نام کر دی ہے ہمیں اب اس کے لہجے کی روانی یاد آتی ہے کہاں سے لاؤں خون دل تمہیں اب یاد کرنے کو میں جب سوچوں تو اس دل میں پرانی یاد آتی ہے نسیمؔ اخترؔ کہاں ہیں اب وہ جذبوں سے بھری راتیں ہمیں اب اپنے اشکوں کی روانی یاد آتی ہے

غزل · Ghazal

mataaa-e-hijr le kar in andheron se nikal jaao

متاع ہجر لے کر ان اندھیروں سے نکل جاؤ مرے دامن کے داغو روشنی میں اب تو ڈھل جاؤ ہماری بے حسی سرگوشیاں کرتی ہے ہر اک پل کہ جو حالات بھی درپیش ہوں ان سے بہل جاؤ اگر جینے کی حسرت ہے زمانہ ساز ہو جاؤ تڑپنا عمر بھر کا ہے ذرا سا تم سنبھل جاؤ تری قربت مجھے بیگانہ کر دیتی ہے خود مجھ سے تمنا ہے کہ تم بھی اک نئے سانچے میں ڈھل جاؤ مرے تبدیل ہونے سے کہیں کچھ بھی نہ بدلے گا اگر کچھ درد رکھتے ہو زمانے کو بدل جاؤ نسیمؔ ان تک پہنچنا ہے جو میرا درد رکھتے تھے مری سرسبز سوچو تم تعاقب میں نکل جاؤ

غزل · Ghazal

itni mushkil to na thi meri kitaab-e-zindagi

اتنی مشکل تو نہ تھی میری کتاب زندگی کچھ الجھ کے رہ گیا ہے اب نصاب زندگی زندگی لیتی ہے مجھ سے ایک اک پل کا حساب تھک گئی ہوں دیتے دیتے میں حساب زندگی مجھ کو پیش آتی رہی ہیں مشکلیں ہی مشکلیں جان لیوا ہے الٰہی یہ عذاب زندگی مجھ سے گر کوئی بھی پوچھے زندگی کیا چیز ہے میں کہوں گی ایک دیوانے کا خواب زندگی دل نے سرگوشی سی کی ہے سن مرے ہمدم ذرا چھیڑ کے تو دیکھ کیسا ہے رباب زندگی تجھ سے میں کیسے کہوں یہ بات میرے ہم نوا یاد آتا ہے مجھے اکثر شباب‌ زندگی کٹ گئی جیسے کٹی بس تو خدا کو یاد کر اے نسیمؔ اب ڈھل رہا ہے آفتاب زندگی

Similar Poets