Naseem Akhtar Naseem
Naseem Akhtar Naseem
Naseem Akhtar Naseem
Ghazalغزل
ban sakegaa na ye aaina sahaaraa apnaa
بن سکے گا نہ یہ آئینہ سہارا اپنا کوئی اندھا کہیں کرتا ہے نظارہ اپنا بد نصیبی کی بھی ہوتی ہے کوئی حد یارو خود مری سمت پلٹ آیا اشارہ اپنا آپ کے حسن کرم کا ہے یہ احسان بڑا ایسی گردش میں نہ تھا پہلے ستارہ اپنا کس طرف جائے گی یہ ناؤ خدا ہی جانے ساحل اپنا ہے نہ طوفان کا دھارا اپنا ہم تو گرداب سے بھی کھیلتے رہتے تھے نسیمؔ آج دیتا نہیں اب ساتھ کنارہ اپنا
dil badalte nahin lainon ke
دل بدلتے نہیں لعینوں کے قصے سب ایک ہیں زمینوں کے موج دریا پکارتی بھی کسے گم ہیں نام و نشاں سفینوں کے ہم ہی تھے یادگار شرفا کے بن گئے ہم ہدف کمینوں کے سرسراتے ہیں ذہن میں اب کے کیا ہوئے خوف آستینوں کے اب کھنڈر بولنے لگے ہیں نسیمؔ کوئی وارث نہیں مکینوں کے
ye rang-o-bu hain kuchh din ke nazaaron kaa bharosa kyaa
یہ رنگ و بو ہیں کچھ دن کے نظاروں کا بھروسہ کیا بہاریں کل کہاں ہوں گی بہاروں کا بھروسا کیا نہ اترانا کہ ہے تم کو میسر دامن ساحل کنارے ٹوٹ جاتے ہیں کناروں کا بھروسا کیا ہم اپنی ذات ہی کو انجمن تسلیم کرتے ہیں ادارے ٹوٹ جاتے ہیں اداروں کا بھروسا کیا زمانے میں نہیں انجام اچھا سر اٹھانے کا ستارے ٹوٹ جاتے ہیں ستاروں کا بھروسا کیا نسیمؔ اس درجہ فخر اچھا نہیں یاران محفل پر سہارے ٹوٹ جاتے ہیں سہاروں کا بھروسا کیا





