
Naseem Muzaffarpuri
Naseem Muzaffarpuri
Naseem Muzaffarpuri
Ghazalغزل
ek muddat ho gai gham se shanaasaai hue
ایک مدت ہو گئی غم سے شناسائی ہوئے ہم اسے اپنا سمجھ کر اس کے شیدائی ہوئے جب خلوص یار میں شامل تصنع ہو گیا ہم بھی کیا کرتے اسیر دشت تنہائی ہوئے فاصلوں نے قربتوں پر ڈال دی ہے خاک سی ایک عرصہ ہو گیا ہے بزم آرائی ہوئے کھل گئے یک لخت ان پر سب معانی حسن کے ہم سے ملتے ہی وہ خود آگاہ رعنائی ہوئے یوں جلا ڈالے تو تھے ہم نے تمہارے سب خطوط کچھ کہ چہرے پر لکھے جو وجہ رسوائی ہوئے ہم نے خوابوں میں بسا رکھا تھا جس کو اے نسیمؔ کھینچ کر دامن وہی محو خود آرائی ہوئے
haqir zarra bhi koh-e-giraan dikhaai de
حقیر ذرہ بھی کوہ گراں دکھائی دے کبھی کبھی یہ زمیں آسماں دکھائی دے جو میری آنکھ سے آنسو رواں دکھائی دے تو ڈوبتا ہوا سارا جہاں دکھائی دے ہر ایک شخص یہاں بد گماں دکھائی دے مرا خلوص مجھے رائیگاں دکھائی دے زمیں پہ خون کی سرگوشیاں ابھرتی ہیں مکیں تو کوئی نہیں ہے مکاں دکھائی دے سلگتی ریت پہ چلتے رہو کہیں نہ کہیں عجب نہیں کہ کوئی سائباں دکھائی دے مرے خلوص کی گرمی بھی کام آ نہ سکی دبیز برف میں چہرہ کہاں دکھائی دے جو بحر وہم میں ڈوبے ہوئے سے رہتے ہیں انہیں یقیں کا جزیرہ کہاں دکھائی دے نسیمؔ اپنی کہانی کسے سناؤ گے کوئی نہ شہر میں اب راز داں دکھائی دے
teri vafaa ki haqiqat main aazmaa na sakaa
تیری وفا کی حقیقت میں آزما نہ سکا بہت قریب بھی رہ کر میں تجھ کو پا نہ سکا پڑھی جو فون کی ہر سمت رینگتی تحریر میں اس کے بعد کسی طرح مسکرا نہ سکا ترے سلوک پہ شکوہ نہیں ہے کوئی مجھے میں خود ہی اپنی تمناؤں کو دبا نہ سکا ترے کرم میں کمی ہو کچھ ایسی بات نہ تھی ترے خلوص کا میں بار ہی اٹھا نہ سکا بہت خلوص تھا ہر چند میری باتوں میں وہ اپنے طنز کا نشتر مگر چھپا نہ سکا
tamaam umr mujhe us ki aarzu Thahri
تمام عمر مجھے اس کی آرزو ٹھہری وہ ایک شخص عداوت ہی جس کی خو ٹھہری جھکی تو اٹھ نہ سکی شرم سے نگاہ طلب یہ اور بات کہ پھر بھی وہ سرخ رو ٹھہری مرے لبوں سے اداسی مگر نہ چھوٹ سکی ہزار ساعت دشوار خوش گلو ٹھہری لطیف صبح کی ٹھنڈک ہے زندگی تیری مری حیات بھری دوپہر کی لو ٹھہری اسے اتار کہ اب ساتھ یہ نہیں دے گی قبائے کہنگی شرمندۂ رفو ٹھہری نسیمؔ رات ٹھٹھرتی ہے جا کے سو جاؤ بدن میں اب وہ کہاں گرمیٔ لہو ٹھہری
agarche jaan kaa khatra nai uDaan mein thaa
اگرچہ جان کا خطرہ نئی اڑان میں تھا پرندہ پھر بھی بہت دور آسمانوں میں تھا ملی جو منزل امکاں بہ جستجوئے ہزار عجیب نشہ سفر در سفر تکان میں تھا اسی نے گھر کے چراغوں کی لو بڑھائی ہے شمار جس کا کبھی ننگ خاندان میں تھا میں دشمنوں سے ہر اک لمحہ تھا بہت محتاط ملے گا زخم رفیقوں سے کب گمان میں تھا میں تنگ آ کے تعطل سے دھوپ میں نکلا سکون قلب و نظر یوں تو سائبان میں تھا نسیمؔ چشم زدن میں زمیں پہ آن گرا اگرچہ تیر ستم گر ابھی کمان میں تھا





