SHAWORDS
Naseem Nazish

Naseem Nazish

Naseem Nazish

Naseem Nazish

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ایک طرف سے اندھے ہوتے ہیں کیسے یہ آئینے ہوتے ہیں کسی کو جو کوئی رنج نہیں دیتے لوگ وہ کتنے اچھے ہوتے ہیں تنہائی کا خوف تھکاتا ہے یا پھر بوجھل رستے ہوتے ہیں آنکھیں ان کو دیکھ نہیں پاتیں دیواروں میں چہرے ہوتے ہیں جلتی ہیں جب قربت کی شمعیں کتنے روشن لمحے ہوتے ہیں شام بہار کے دل کش ہاتھوں میں یادوں کے گلدستے ہوتے ہیں ان کے بغیر ہر آنگن سونا ہے گھر کی رونق بچے ہوتے ہیں جن میں دوری ربط بڑھاتی ہے ایسے بھی کچھ رشتے ہوتے ہیں باہر سے تو ہنستے ہیں نازشؔ اندر لوگ سسکتے ہوتے ہیں

ek taraf se andhe hote hain

1 views

غزل · Ghazal

کیوں نہ مجھ کو ترا پتا مل جائے ڈھونڈنے والوں کو خدا مل جائے وقت کی رہ گزار میں شاید کوئی مجھ سا شکستہ پا مل جائے ہم کو تنہائیاں نصیب رہیں اور تمہیں ہم سا دوسرا مل جائے عکس ہوں اور بھٹک رہی ہوں میں چاہتی ہوں کہ آئینہ مل جائے یا تو اس دشت میں شجر ہو کوئی یا مجھے گھر کا راستہ مل جائے ایک جیسی اداسیاں کب تک درد دل کو کوئی نیا مل جائے تو مجھے اس طرح ملا جیسے رات کو چاند کا دیا مل جائے

kyuun na mujh ko tiraa pataa mil jaae

غزل · Ghazal

سچ کی صدا جب آتی ہے خاموشی چھا جاتی ہے ڈوبنے لگتی ہے ناؤ ندیا شور مچاتی ہے اس کی یاد کی پروائی کتنے پھول کھلاتی ہے عشق کی یہ آزاد روی زنجیریں پہناتی ہے آج بھی تیری دیوانی تیری ہی کہلاتی ہے ہولے سے چلتی ہے نسیم یاد کسی کی آتی ہے شام کے گیسو کھلتے ہی تنہائی بڑھ جاتی ہے ملنا روز نہیں اچھا عادت سی پڑ جاتی ہے رفتہ رفتہ نازشؔ عمر افسانہ بن جاتی ہے

sach ki sadaa jab aati hai

غزل · Ghazal

اب ہمیں تیری تمنا نہیں ہے آنکھ کو ذوق تماشا نہیں ہے جانے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ہم تم وہ جو تقدیر میں لکھا نہیں ہے یوں سر راہ گزر بیٹھے ہیں جیسے ہم کو کہیں جانا نہیں ہے پھر یہ کیوں خاک سی اڑتی ہے یہاں دل کے اندر کوئی صحرا نہیں ہے شہر والو کبھی اس کو بھی پڑھو وہ جو دیوار پہ لکھا نہیں ہے اس کو کمتر نہ سمجھنا لوگو وہ جسے خواہش دنیا نہیں ہے ہم کو ہے قرب میسر کا نشہ ہم کو اندیشۂ فردا نہیں ہے یہ گزرتا ہوا اک سایۂ وقت قاتل عمر ہے لمحہ نہیں ہے تہہ میں رشتوں کی اتر کر دیکھو کون اس دہر میں تنہا نہیں ہے ہجر کا تجھ کو ہے شکوہ تو نے معنیٔ عشق کو سمجھا نہیں ہے گم ہوئے کتنے ہی بے نام شہید جن کا تاریخ میں چرچا نہیں ہے تو ہے بیگانہ تو کیا تجھ سے گلہ کوئی دنیا میں کسی کا نہیں ہے کر گئے خوف خزاں سے ہجرت پیڑ پر کوئی پرندہ نہیں ہے زیست میں ہم نے بچا کر کچھ وقت کبھی اپنے لئے رکھا نہیں ہے ہم ہیں اس عہد میں زندہ جس کا جسم ہی جسم ہے چہرہ نہیں ہے تم نہ ہو گے تو جئیں گے کیسے ابھی اس بارے میں سوچا نہیں ہے کیسی محفل یہ سجی ہے نازشؔ کوئی بھی میرا شناسا نہیں ہے

ab hamein teri tamannaa nahin hai

Similar Poets