Naseem Raghibii
Naseem Raghibii
Naseem Raghibii
Ghazalغزل
goshe goshe se jahaan-e-'ishq ke mahshar uThaa
گوشے گوشے سے جہان عشق کے محشر اٹھا حسن عالم گیر کے جلوے عیاں ہونے کے بعد جانچ لے معیار الفت پر مجھے حسن ازل آئنہ ہو جائے گا سب امتحاں ہونے کے بعد کیا پیام عید تھے جھونکے نسیمؔ صبح کے کھل گئیں کلیوں کی باچھیں شادماں ہونے کے بعد ہر حقیقت کو مرے دل نے کیا ہے بے نقاب دو جہاں میں دو جہاں کا رازداں ہونے کے بعد غنچہ و گل میں فقط اب ذکر میرا ہے نسیمؔ میں کہاں باقی خراب گلستاں ہونے کے بعد
jaa ke manzil par haqiqat ki Thaharnaa chaahiye
جا کے منزل پر حقیقت کی ٹھہرنا چاہیے عشق پر مرنے سے پہلے ہم کو مرنا چاہیے ہاں دکھا دے اے خیال برق غم اپنا اثر آبلہ پائے تخیل کا ابھرنا چاہیے موت نے آ کر دکھایا ہستیٔ درماندہ کو جادۂ ہستی سے یوں آگے گزرنا چاہیے بن سنور کر آتی ہے مشاطۂ فصل بہار داغہائے دل کے پھولوں کو نکھرنا چاہیے سننے والوں کے دلوں پر کیف طاری ہو نسیمؔ یوں مضامین غزل میں رنگ بھرنا چاہیے
shab-e-gham gar dikhaaeinge taDap dard-e-nihaan vaale
شب غم گر دکھائیں گے تڑپ درد نہاں والے تڑپ اٹھیں گے آواز فغاں سے آسماں والے ستم کی بجلیوں کا دور ہے جس دن سے گلشن میں سب اپنے آشیانوں میں ہیں لرزاں آشیاں والے انہیں افکار مرگ و زیست سے مطلب نہیں کچھ بھی بڑے آرام سے ہیں آسماں پر آسماں والے نسیمؔ اک سحر فن پر جب سے ہم نے فتح پائی ہے جہاں میں ہو گئے مشہور ہم جادو بیاں والے





