Naseem Razzaq
ٹوٹ کر خوشیوں کا سارا سلسلہ رہ جائے گا زندگی سے صرف رشتہ درد کا رہ جائے گا بند کمرے سے لرزتے سائے بھی مٹ جائیں گے بس چراغوں سے دھواں اٹھتا ہوا رہ جائے گا لوگ کر دیں گے مجھے تیری گلی میں سنگسار اور تو کھڑکی سے یونہی جھانکتا رہ جائے گا ختم صدیوں تک نہ ہوگا چند لمحوں کا سفر میرے قدموں پر لپٹ کر راستہ رہ جائے گا گردش حالات جب چہرہ بدل دے گی مرا آئنہ حیرت سے مجھ کو دیکھتا رہ جائے گا آندھیاں غم کی اڑا لے جائیں گی بوئے حنا آنسوؤں میں ڈوب کر رنگ حنا رہ جائے گا ایک اشک غم بچا رکھا ہے بس اپنے لیے بہہ گیا یہ بھی تو اپنے پاس کیا رہ جائے گا آ نہ پائے گا ابھر کر میرے ہونٹوں پر نسیمؔ بس تبسم دل کے زخموں میں چھپا رہ جائے گا
TuuT kar khushiyon kaa saaraa silsila rah jaaegaa