
Nashad Aurangabadi
Nashad Aurangabadi
Nashad Aurangabadi
Ghazalغزل
tumhaari yaad se hargiz na baaz aaeinge
تمہاری یاد سے ہرگز نہ باز آئیں گے جہاں خیال نہ جائے وہاں بھی جائیں گے تمہارے ساتھ جو بیتے ہیں کچھ حسیں لمحے انہیں لباس غزل دے کے گنگنائیں گے تری نگاہ کے موہوم سے اشارے پر فلک سے چاند ستارے بھی توڑ لائیں گے ہم اہل فن ہیں کہیں گے جو دل پہ بیتی ہے چڑھیں گے دار پہ ہم پھر بھی مسکرائیں گے ذرا بھی آنچ جو آئی کبھی نشیمن پر ہمارے نالے گلستاں کو پھونک ڈالیں گے ہر ایک گام پہ ناشادؔ سوچتے ہیں ہم کبھی تو پائیں گے منزل کبھی تو پائیں گے
bhejtaa huun aap ko apni pasandida ghazal
بھیجتا ہوں آپ کو اپنی پسندیدہ غزل تازہ تازہ ناشنیدہ اور نادیدہ غزل داستان حسن بھی ہے یہ سراپا حسن بھی سنگ مرمر سے مثال بت تراشیدہ غزل میرؔ غالبؔ ذوقؔ و مومنؔ پر بھی تھی جاں سے نثار تھی بہادر شاہ کی ہر چند گرویدہ غزل شہرۂ آفاق ہے اس کا جمال فکر و فن ساری اصناف سخن میں ہے جہاں دیدہ غزل پارہ پارہ ہو نہ جائے ماہ پارہ دیکھیے ہے ہوس ناکوں کے ہاتھوں آج رنجیدہ غزل شعر کی آمد نہیں ہوتی ہے کیا ناشادؔ اب شاعران عصر تو کہتے ہیں پیچیدہ غزل
fahm-o-zakaa se duur hai idraak-e-aarzu
فہم و ذکا سے دور ہے ادراک آرزو مجھ سے بھرا نہ جائے گا فتراک آرزو دامن بھی چاک چاک گریباں بھی چاک چاک کیسے کرے رفو کوئی صد چاک آرزو شاید کسی کی آرزو پامال پھر ہوئی بکھری ہوئی ہے چاروں طرف خاک آرزو صدیاں گزر گئیں کبھی پوری نہ ہو سکی سفاک خواہشات کی سفاک آرزو ہر وقت دل میں خوف سا رہتا ہے ان دنوں کوئی نہ مجھ سے چھین لے املاک آرزو اس کا سکون پھیل گیا آسمان تک قسمت سے جس نے پا لیا افلاک آرزو ناشادؔ ڈھلنے والی ہے اب زندگی کی شام اب تو سمیٹ لیجئے خاشاک آرزو
ai dost mujh ko teri zarurat hai aaj bhi
اے دوست مجھ کو تیری ضرورت ہے آج بھی غم سے نجات کی یہی صورت ہے آج بھی کٹتے ہیں کیسے میرے شب و روز کچھ نہ پوچھ تیرے کرم کی مجھ کو ضرورت ہے آج بھی قسمت نے مجھ کو تجھ سے پرے کر دیا ضرور دل کے قریب تیری ہی صورت ہے آج بھی جس کو میں کر سکا نہ مکمل ترے بغیر آ دیکھ نا تراش وہ مورت ہے آج بھی جو لوگ پوچھتے ہیں کہ ناشادؔ کیوں ہوں میں شاید دلوں میں ان کے کدورت ہے آج بھی
ham achchhe mazaamin ko ghaarat nahin karte
ہم اچھے مضامین کو غارت نہیں کرتے بچوں کی طرح ایسی شرارت نہیں کرتے غزلوں کی تو ہر طرح سے کرتے ہیں حفاظت بھولے سے بھی نظموں کی تجارت نہیں کرتے ڈھہ جائے جو اک ریت کی دیوار کی صورت تعمیر ہواؤں میں عمارت نہیں کرتے سہہ لیتے ہیں دانستہ بھی حالات کے دھکے لیکن شہ جابر کی سفارت نہیں کرتے گزری جو صدی تیری تھی اب میری ہے میری غالب سے یہ کہنے کی جسارت نہیں کرتے اردو کے کچھ ایسے بھی سخنور ہیں جو ناشادؔ اردو میں کلام اپنا عبارت نہیں کرتے
na jaane aaj vo kyon yaad baar baar aae
نہ جانے آج وہ کیوں یاد بار بار آئے وہ جن کی بزم سے ہم اٹھ کے سوگوار آئے میں چاہتا ہوں کہ ہر شخص مشکبار آئے مری طرف سے کسی دل پہ کیوں غبار آئے وہ جن کا وعدہ تھا اک ساتھ جینے مرنے کا جو وقت آیا تو ملنے نہ ایک بار آئے خزاں کے دور سے یوں تو گزر رہے ہیں ہم یہی دعا ہے کہ پھر لوٹ کے بہار آئے کہاں کسی کے لئے کوئی جان دیتا ہے پڑا جو وقت تو ہر در پہ ہم پکار آئے وہ رام راج کا موسم وہ دور شاہجہاں ہمارے دور میں بھی کاش ایک بار آئے





