Nashir Kazmi
yaa to jalva na dikhaataa to ye behtar hotaa
یا تو جلوہ نہ دکھاتا تو یہ بہتر ہوتا یا مجھے مست بناتا تو یہ بہتر ہوتا آج کی رات بھی کٹ جائے گی جیسے تیسے درد فرقت نہ ستاتا تو یہ بہتر ہوتا غیر تو غیر ہیں غیروں کی شکایت کیسی زخم اپنوں سے نہ پاتا تو یہ بہتر ہوتا یوں تو کہنے کے لیے ہیں بہت اپنے لیکن کوئی اپنا نظر آتا تو یہ بہتر ہوتا آگ اوروں کی بجھانے تو چلا تھا ناشرؔ اپنا دامن بھی بچاتا تو یہ بہتر ہوتا