
Nasir Ansari
Nasir Ansari
Nasir Ansari
Ghazalغزل
ہنستے ہیں پھول نہ غنچے ہی مسکرائے ہیں بہار میں بھی چمن پر خزاں کے سائے ہیں کمال ہمت اہل جنوں خدا رکھے غم حیات کو ہم نے گلے لگائے ہیں یہ اتفاق تو دیکھو گری ہے برق وہیں چمن میں ہم نے جہاں آشیاں بنائے ہیں سمجھ نہ یہ کہ اماں مل گئی غموں سے ہمیں وبا کے درد کو سینے میں مسکرائے ہیں یہ تیری بادہ گساری کی عید ہے ساقی ہے فصل گل سر مے خانہ ابر چھائے ہیں بڑھی ہے گردش ایام رہنمائی کو رہ وفا میں جو ہم نے قدم بڑھائے ہیں ہزار خون تمنا ہوا مگر اے دوست ترے ستم کا گلہ کب زباں پہ لائے ہیں گلہ نہیں غم صبر آزما کا کچھ تجھ سے خوشی سے ہم نے یہ بار الم اٹھائے ہیں
hanste hain phuul na ghunche hi muskuraae hain
1 views
دل کو ہم نے مائل آہ و فغاں رہنے دیا زندگی کو وقف آلام جہاں رہنے دیا مفت میں رسوا ہو کیوں خودداریٔ اہل جنوں میں نے دل کی بات کو دل میں نہاں رہنے دیا حرف کیوں آئے بھلا کعبہ صفت دل پر مرے گو بتوں کو میں نے دل کے درمیاں رہنے دیا ہر نفس تازہ خلش ہے ہر قدم تازہ ستم گردش ایام نے کب شادماں رہنے دیا ہم نے ناموس گلستاں کے تحفظ کے لئے بجلیوں کی زد پہ اپنا آشیاں رہنے دیا لے اڑی ہوتی ہوائے گمرہی رسم وجود وہ تو ہم نے سر کو زیب آستاں رہنے دیا اف مری خلوت طلب کیفیت دیوانگی حسب ارماں تیری محفل میں کہاں رہنے دیا یہ سمجھ کر اس میں شامل ہے خوشی تیری اے دوست زندگی کو تیرے غم میں نوحہ خواں رہنے دیا ان کی یاد جاں فزا آئی کچھ اس انداز سے نام اس کا دیر تک ورد زباں رہنے دیا کر کے چشم ناز نے شاداب زخموں کے گلاب گلشن دل میں بہاروں کو جواں رہنے دیا ہم ہجوم غم میں ناصرؔ مسکراتے ہی رہے زندگی سے موت کو یوں بد گماں رہنے دیا
dil ko ham ne maail-e-aah-o-fughaan rahne diyaa
1 views
خون دل پینے کا قصہ اور غم کھانے کا نام عشق ہے اے دوست مر مر کے جیے جانے کا نام یاد آ جاتے ہیں ان کو سوختہ سامان غم جب کوئی لیتا ہے اس محفل میں پروانے کا نام ظرف عالی چاہئے صہبا پرستی کے لئے کر دیا بد نام کم ظرفوں نے میخانے کا نام گردش دوراں کے ماتھے کی مٹاتا ہوں شکن سامنے میرے نہ لو زلفوں کے بل کھانے کا نام لطف پر مائل ہے شاید پھر وہ چشم مے فروش بار بار آتا ہے لب پر آج پیمانے کا نام انجمن میں مہ جمالوں کی بھلا کیوں جائیے جلوہ گاہ ناز ہے دل کے پری خانے کا نام شکریہ برق تپاں تیرے کرم کا شکریا تو نے روشن کر دیا ہے میرے کاشانے کا نام عشق بھی ہے سرمدی تیرا اے حسن لا زوال کس طرح مٹ جائے گا پھر تیرے دیوانے کا نام گھوم جاتی ہے نظر میں اک بہشت کیف و رنگ جھوم جاتا ہے مرا دل سن کے میخانے کا نام شکوۂ بیداد بھی کتنا ستم ایجاد ہے مسکرا دیتے ہیں وہ سن کر ستم ڈھانے کا نام صاف ظاہر ہو گیا ناصرؔ نگاہ شوق سے اعتراف دلبری ہے ان کے شرمانے کا نام
khun-e-dil piine kaa qissa aur gham khaane kaa naam
1 views
ہوتی ہے آج اہل قفس میں چمن کی بات غربت میں کر رہے ہیں مسافر وطن کی بات آتا ہے مجھ کو اک دل مرحوم کا خیال کرتا ہے جب کوئی کسی پیماں شکن کی بات ڈوبی ہوئی ہے نشہ و نکہت میں چاندنی یہ رات اور شاہد گل پیرہن کی بات اہل جنوں کا قصۂ معراج عشق ہے مشہور ہے جہاں میں جو دار و رسن کی بات ویراں نصیبیوں کو چھپانے کے واسطے کرتا ہوں میں بھی لوگوں میں مل کر چمن کی بات یہ بھی ہے ان کی شوخ مزاجی نہ پوچھئے کہتے ہیں عرض شوق کو دیوانہ پن کی بات ارباب شوق کے لیے درس حیات ہے یہ پختگیٔ حوصلۂ کوہ کن کی بات جلتے ہیں داغ دل کے تو ہوتی ہے روشنی کیا گل کھلا گئی کسی شعلہ بدن کی بات یہ شام یہ سکوت یہ بے کیف زندگی دل کو مسل رہی ہے تری انجمن کی بات نظروں میں جھومتی ہے بہار جمال یار ہونٹوں کو چومتی ہے گل و نسترن کی بات سلجھا رہا ہوں زلف عروس جنوں کو میں اے کاش کوئی چھیڑے نہ دار و رسن کی بات مثل نسیم شہرۂ حسن بتاں کے ساتھ پہنچی ہے دور دور تک ارباب فن کی بات باد سموم کرتی ہے غنچوں کو مضمحل دل کو ملول کرتی ہے رنج و محن کی بات ناصرؔ اسی میں فن کی ترقی کا راز ہے اہل نظر کریں نہ مذاق کہن کی بات
hoti hai aaj ahl-e-qafas mein chaman ki baat
1 views
سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے مجھے فرصت نہیں آہ و فغاں سے بہت ہے کاہش درد محبت ہمیں کیا واسطہ عیش جہاں سے نہ پوچھو ماجرائے شوق ہم سے کہیں لغزش نہ ہو جائے زباں سے کرم ان کا ترے حال زبوں پر مگر یہ بات باہر ہے گماں سے ابھی شر اور آفت تو ہے باقی شرافت اٹھ گئی لیکن جہاں سے نصیحت بزم واعظ میں ہوئی تھی ادب سیکھا مگر بزم بتاں سے خبر ہے ان کو حرف مدعا کی بھلا ہم کیوں کہیں اپنی زباں سے ہے کیسی روشنی صحن چمن میں گری ہے برق شاید آسماں سے نہ بر آئی تمنا دل کی ناصرؔ اٹھے ہم نامرادانہ جہاں سے
sukun-e-dil abhi laaun kahaan se





