
Nasir Maroof
Nasir Maroof
Nasir Maroof
Ghazalغزل
محبت اسقدر کا فائدہ کیا یوں ہونے در بدر کا فائدہ کیا ترے بن ہے مرے کس کام کا یہ مرے برباد گھر کا فائدہ کیا سنو دستار داغوں سے بھری ہے سلامت ہے جو سر کا فائدہ کیا اگر اب بھی نہیں یہ کام کا تو میرے چھلنی جگر کا فائدہ کیا یہ غالب بھوک تھی تم پوچھتے ہو کٹائے بال و پر کا فائدہ کیا مری محرومیاں گر ہیں سلامت تری اچھی نظر کا فائدہ کیا وہ سننے کے لئے تیار کب تھا وضاحت بے اثر کا فائدہ کیا بسایا ہے مجھے تو نے جو دل میں تو پھر مجھ سے مفر کا فائدہ کیا وفا کے نام سے واقف نہ ہو جو تو حسن خوب تر کا فائدہ کیا میسر روشنی جس کی نہیں ہے تو پھر ایسے قمر کا فائدہ کیا
mohabbat is-qadar kaa faaeda kyaa
1 views
کبھی دل یاد کرتا ہے کبھی مجھ سے جھگڑتا ہے جو باہر دسترس سے ہوں انہی باتوں پہ اڑتا ہے کسی کھنڈر پرانے میں بدلتا جا رہا ہوں میں کہ روزانہ ہی اندر سے مرا یہ جسم جھڑتا ہے کسی بھی اور سے آؤ مرے ہی پاس آؤ گے نشاں تیرے بھی رستے کا مرے رستے میں پڑتا ہے اسے وحشت سے جانے کیوں محبت ہو رہی ہے اب کسی زنجیر کو خود ہی مرا پاؤں پکڑتا ہے مجھے ہی مار ڈالیں گے جو میرے یار بنتے ہیں سمندر راستے میں ہے قدم آگے کو بڑھتا ہے یہ حسرت دید صحرا کی کرے مجبور ہجرت پر بھلا کب اتنی آسانی سے رنگ عشق چڑھتا ہے چلو اپنی اناؤں کو کریں سجدہ خوشی سے ہم مگر خوابوں کا ناصرؔ جی نگر سارا اجڑتا ہے
kabhi dil yaad kartaa hai kabhi mujh se jhagaDtaa hai
1 views
فقط بات دل کی سنائی تھی تم کو تمہاری شکایت لگائی تھی تم کو زمانہ ہمیں دوش دیتا ہے کیونکر یہی بات ہم نے بتائی تھی تم کو محبت کا جھانسہ تھا سب کھیل تیرا جو گزری تھی دل پر سنائی تھی تم کو بھلا کیسے زندہ میں تم کو ملوں گا پڑی راکھ اپنی دکھائی تھی تم کو تری دسترس میں نہ آؤں گا یارا یہی بات میں نے رٹائی تھی تم کو نہ تم سے ہوئی پار نظروں کی دہلیز ملی دل تلک بھی رسائی تھی تم کو قبیلے کی عزت بچا نہ سکے تم قسم یاد میں نے دلائی تھی تم کو یقیں تھا اثر تیرے دل پر نہ ہوگا مگر جوٹھی چائے پلائی تھی تم کو تو جس بات پر ہے نا ناصرؔ سے نالاں کبھی یہ ادا اس کی بھائی تھی تم کو
faqat baat dil ki sunaai thi tum ko
1 views
لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے کہ اب جنگل سے بھی بد تر مرے شہروں کی حالت ہے کسی دن توڑنے والوں کو یہ احساس ہو اے کاش مہکتا پھول ٹہنی پر محبت کی علامت ہے بڑائی ہے میاں ساری کی ساری عقل و دانش سے وگرنہ آدمی میں کب پہاڑوں جیسی طاقت ہے سخی کچھ تو عطا ہو جائے اب تیرے خزانے سے مرے دست دعا میں دیکھ میرے دل کی حاجت ہے جو اپنی ذات میں گم ہیں بھلا ان کو خبر کیا ہو بچھڑ کر خود سے جینے میں اذیت ہی اذیت ہے نکل کر باغ جنت سے یہ کس دنیا میں آیا ہوں جہاں جینا اذیت ہے جہاں مرنا مصیبت ہے بس اک ٹوٹا ہوا دل ہے وجود خاک میں ناصرؔ بتا اس آئنے کی اب کوئی جڑنے کی صورت ہے
lahu se tar jo khanjar hain ye nafrat ki tamaazat hai
1 views
نہ جانے کون سا میری طرف سامان باقی ہے کہ جاں دے کر بھی مجھ پر آپ کا احسان باقی ہے تری نادانیوں سے ہم محبت ہار بیٹھے ہیں لگانے کو بتا اب بھی کوئی بہتان باقی ہے محبت کے چمن میں کھلنے والے اے گل خندہ ترے ماتھے پہ اک بوسے کا بس ارمان باقی ہے کسی صورت تمہاری دید کی خیرات مل جائے اسی خواہش میں پھیلا آج بھی دامان باقی ہے یہ ہم جو سانس لے پاتے نہیں ہیں اپنی مرضی سے ہماری زندگی میں کون سا تاوان باقی ہے کوئی بھی پھول خواہش کا مجھے خوشبو نہیں دیتا تو پھر کیسے کہوں میں زیست کا گلدان باقی ہے یہ کس موذی مرض کی زد میں آئی زندگی ناصرؔ نہ کوئی جانور باقی ہے نا انسان باقی ہے
na jaane kaun saa meri taraf saamaan baaqi hai
1 views
طلب روٹی کی تڑپائے تو خطرے بھول جاتے ہیں پرندوں کو شکاری کے شکنجے بھول جاتے ہیں زمانے نے ازل سے ہی یہ اپنی ریت ہے رکھی جو سستا کچھ میسر ہو تو مہنگے بھول جاتے ہیں مشقت کی نہج اک دن انہیں کندن بناتی ہے جو بچے مفلسی کی زد میں بستے بھول جاتے ہیں ہوا ہے خون کا پیاسا یہاں پر ہر کوئی بندہ ہوس دولت کی بڑھ جائے تو اپنے بھول جاتے ہیں سبھی کاموں کو اپنے ہم نبھاتے ہیں سلیقے سے الجھ کر تیری یادوں میں نوالے بھول جاتے ہیں تو اپنی بے نوائی پر زیادہ غم نہ کر ناصرؔ لگے جب عشق کی ٹھوکر تو رستے بھول جاتے ہیں
talab roTi ki taDpaae to khatre bhuul jaate hain





