Nasir Nizami
Nasir Nizami
Nasir Nizami
Ghazalغزل
اس شہر بے نیاز کے لوگوں کی خو نہ پوچھ کس کس ادا سے کرتے ہیں دل کا لہو نہ پوچھ اہل وفا کی کرتے ہیں کیا کیا یہ خاطریں خود مل کے ان کو دیکھ کبھی مجھ سے تو نہ پوچھ لگتی ہیں ہر گلی میں محبت کی بولیاں بکتی یہاں ہے جنس وفا کو بہ کو نہ پوچھ اک آن میں ہی دل کا جزیرہ جھلس گیا شہر بدن میں ایسی چلی غم کی لو نہ پوچھ آب حیات سے بھی کڑا ہے ترا حصول میں پھر بھی تیری کرتا ہوں کیوں جستجو نہ پوچھ ناصرؔ تمہاری ذات کی خاطر جہان میں کس کس کو میں نے اپنا کیا ہے عدو نہ پوچھ
is shahr-e-be-niyaaz ke logon ki khu na puchh
1 views
گردشوں کے ہیں مارے ہوئے نہ دشمنوں کے ستائے ہوئے ہیں جتنے بھی زخم ہیں میرے دل پر دوستوں کے لگائے ہوئے ہیں جب سے دیکھا ترا قد و قامت دل پہ ٹوٹی ہوئی ہے قیامت ہر بلا سے رہے تو سلامت دن جوانی کے آئے ہوئے ہیں اور دے مجھ کو دے اور ساقی ہوش رہتا ہے تھوڑا سا باقی آج تلخی بھی ہے انتہا کی آج وہ بھی پرائے ہوئے ہیں کل تھے آباد پہلو میں میرے اب ہیں غیروں کی محفل میں ڈیرے میری محفل میں کر کے اندھیرے اپنی محفل سجائے ہوئے ہیں اپنے ہاتھوں سے خنجر چلا کر کتنا معصوم چہرہ بنا کر اپنے کاندھوں پہ اب میرے قاتل میری میت اٹھائے ہوئے ہیں مہ وشوں کو وفا سے کیا مطلب ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب ان کی معصوم نظروں نے ناصرؔ لوگ پاگل بنائے ہوئے ہیں
gardishon ke hain maare hue na dushmanon ke sataae hue hain
1 views





