
Nasiruddin Ansar
Nasiruddin Ansar
Nasiruddin Ansar
Ghazalغزل
وہ جس زباں سے محبت کی بو نہیں آتی وہ لاکھ بات کرے گفتگو نہیں آتی ہمیشہ میں نے بھگویا ہے اپنے دامن کو تمہاری یاد کبھی بے وضو نہیں آتی جہاں ریا کا سمندر ہو موجزن ہر دم وہاں خلوص کی پھر آب جو نہیں آتی یہ وصف خاص قناعت کا ہے عطا کردہ زباں پہ میرے کبھی آرزو نہیں آتی
vo jis zabaan se mohabbat ki bu nahin aati
شعر گوئی تو اک بہانہ ہے اعتبار سخن بڑھانا ہے جس سے ہوں فکر کے دریچے وا ایسا ماحول اب بنانا ہے ہو خودی سے اگر شناسائی ٹھوکروں میں تری زمانہ ہے کل زمانے نے آزمایا تھا اب زمانے کو آزمانا ہے اس گلی کی کشش نہیں جاتی یوں تو ہر روز آنا جانا ہے گر طبیعت تری نہیں مائل پھر تکلم بھی تازیانہ ہے جی رہا ہوں کسی مسافر سا صرف عقبیٰ مرا ٹھکانا ہے جب مضامین نو چلے آئیں شاعری کو سرور آنا ہے نقد ہو شعر ہو کہ فن پارہ اپنا انداز ناصحانہ ہے
sher-goi to ik bahaana hai





